ہنیہ کا انتخاب، مزاحمتی تحریک کو مستحکم کرنا یا حماس کی نئی اسٹریٹجی؟

حماس کی سربراہی کو فلسطین میں منتقل کرنا کئی لحاظ سے اہم ہو سکتا ہے اور اس اقدام سے کئی تازہ واقعات رو نما ہو سکتے ہیں۔

ہنیہ کا انتخاب، مزاحمتی تحریک کو مستحکم کرنا یا حماس کی نئی اسٹریٹجی؟

خبر رساں ادارہ تسنیم: موصولہ اطلاعات کے مطابق حماس نے 6 مئی 2017 کو اعلان کیا کہ اس تنظیم کے داخلی انتخابات کے نتیجے میں اسماعیل ہنیہ اس تنظیم کی سیاسی شاخ کے سربراہ منتخب ہوئے ہیں۔ موجودہ سربراہ خالد مشعل کے مسلسل دو بار اس تنظیم کے صدارتی عہدے پر فائز رہنے کے بعد نیز تنظیم کے آئین کے مطابق ان کی تیسری تقرری نہ ہونے کے سبب اسماعیل ہنیہ اس بار حماس کی سیاسی شاخ کی کمان سنبھالیں گے۔

حماس کی سیاسی یونٹ کی صدارتی تاریخ

1987 میں حماس کی تاسیس کے وقت سے اب تک دو افراد اس تنظیم کے سربراہ مقرر ہوئے ہیں، پہلے موسی ابو مرزوق جو 1987 سے 1995 تک اس تنظیم کے پہلے سربراہ رہے۔ حماس کے معنوی رہنما شیخ احمد یاسین کی صیہونی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت کے بعد 1996 میں خالد مشعل حماس کی سیاسی یونٹ کے سربراہ مقرر ہوئے۔

وہ 2009 تک صدارتی منصب پر فائز رہے پھر اسی سال ہونے والے انتخابات میں دوسری بار اس تنظیم کے صدر منتخب ہوئے۔

اسماعیل ہنیہ 2017 میں اس تنظیم کا صدارتی عہدہ سنبھالنے والے تیسرے فرد ہیں۔

حماس کے سیاسی سربراہ کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟

حماس کے داخلی انتخابات کے دو مرحلے ہیں۔ اول مشاورتی کمیٹی کا انتخاب، دوم سیاسی دفتر کا انتخاب۔

انتخابات کے یہ دو مراحل جو حماس کی داخلی سیاست میں نہایت ہی اہمیت کے حامل اور دونوں ایک دوسرے کے بغیر ناقص ہیں۔ تنظیم کے داخلی ڈھانچہ کے انتخابات کے لئے علاقے میں پائے جانے والے انتخابی طریقوں میں سے ایک، انتہائی مخفی طریق کار ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ حماس کی اہم شخصیات ہمیشہ ہی صیہوںی دہشت گردوں کے نشانہ پر رہتی ہیں اس لئے یہ انتخابات بہت رازدارانہ انداز میں ہوتے ہیں تاکہ حماس کی کوئی داخلی اطلاعات لیک نہ ہوں اور انتخابی نتائج یا تنظیم کے بعض عہدیداران کا اعلان خود حماس کرتا ہے۔

مشاورتی کمیٹی اور سیاسی دفتر کے ارکان کا انتخاب

اس کمیٹی کے ارکان کا انتخاب کسی انتخابی مہم یا تبلیغ کے ذریعہ نہیں بلکہ باہمی اتفاق سے کیا جاتا ہے بنا کسی انتخابی امیدواری یا اعلان کے۔ مشاورتی کونسل باہمی اتفاق اور ہماہنگی سے سیاسی دفتر کے سربراہ اور ارکان کا انتخاب کرتے ہیں۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ اس انتخاب میں کوئی امیدوار نہیں ہوتا اور جس کسی کا انتخاب کر لیا جاتا ہے وہ اپنے عہدہ سے مستعفی نہیں ہو سکتا۔

اسماعیل ھنیہ کون ہے؟

اسماعیل ہنیہ غزہ پٹی میں حماس کے ایک رہنما ہیں۔ وہ خصوصی طور پر غزہ پٹی میں حماس کارکنوں کے درمیان ایک سیاسی شخصیت کے ساتھ ساتھ مذہبی شہرت کے حامل ہیں۔ وہ غزہ پٹی کی ایک مسجد میں امام جمعہ بھی ہیں جن کی اقتداء میں حماس کے کئی رہنما نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔ عام لوگوں کی نظر میں بھی اسماعیل ہنیہ ایک بلند و بالا مذہبی شخصیت مانے جاتے ہیں۔

کہا جا سکتا ہے کہ اسماعیل ہنیہ اس راہ پر گامزن ہیں کہ وہ مستقبل میں شیخ احمد یاسین کی جانشینی کرتے ہوئے حماس کے معنوی پیشوا کی جگہ لے سکتے ہیں۔

اسمعیل ہنیہ سیاسی سطح پر فلسطین کے سابق وزیراعظم کے فرائض انجم دے چکے ہیں۔ وہ 2013 تک فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔

اسماعیل ھنیہ 2005 میں حماس سے جڑی سیاسی پارٹی کے اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد وزیراعظم کے عہدہ پر فائز ہوئے تھے لیکن محمود عباس اور الفتح موومنٹ کی وعدہ خلافیوں کے سبب مجبور ہوکر وہ اپنی سرکار کو غزہ پٹی لے آئے اور اس علاقے کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لی۔

2013 میں الفتح اور حماس کے درمیان قطر میں ہونے والے قومی امن معاہدہ کے تحت انہوں نے اپنی حکومت کو منحل کر دیا جس کے بعد رامی حمد اللہ کی قیادت میں فلسطینی قومی اتحاد کی حکومت تشکیل پائی۔

2015 میں اس وقت کے نائب صدر موسی ابو مرزوق کو پیش آنے والی مشکلات کے سبب اسماعیل ہنیہ حماس کی سیاسی شاخ کے نائب صدر اور غزہ میں حماس تنظیم کے صدر مقرر کئے گئے۔

ھنیہ کے انتخاب کے نتائج

اسماعیل ہنیہ کے انتخاب کے بعد جو پہلی تبدیلی آئی ہے وہ فلسطینی قیادت کی فلسطین میں منتقلی ہے۔ حماس کی سیاسی شاخ کے دونوں سابقہ صدور بیرون ملک مقیم تھے، یعنی خالد مشعل اور ابو مرزوق دونوں ہی فلسطین سے باہرمقیم تھے۔ اس تنظیم کی سیاسی ونگ کی سربراہی کے لئے اسماعیل ہنیہ کے انتخاب کے سبب حماس کی قیادت بیرون ملک سے خود فلسطین میں منتقل ہوگئی ہے۔

حماس پر جو اعتراض ہوتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ صیہونی مظالم کا شکار ہونے والوں اور صیہونیوں سے مقابلہ کرنے والوں کی قیادت فلسطین سے باہر دفتروں میں بیٹھے افراد کر رہے ہیں جو صیہونیوں سے مقابلہ بھی نہیں کرتے۔ ہنیہ کے منتخب ہونے سے فیصلہ لینے والی قیادت کو تحریک مزاحمت کے قلب "غزہ کی پٹی" میں لے آیا ہے۔

اس انتخاب کے مثبت نتائج کے ساتھ ساتھ ایک منفی پہلو بھی ہے کہ کئی عشروں تک قیادت کا تجربہ رکھنے والے حماس  کے کرشمائی شخصیت کے حامل افراد جن کی سحر آفرین شخصیت حماس کے حامیوں میں شدت سے تسلیم کی جاتی ہے، اس تنظیم کے فیصلہ لینے والے منظر نامہ سے تقریبا غائب ہو جائیں گے۔

فی الحال حماس کا دفتر غزہ میں ہے اور ابو مرزوق مصر میں ہیں جو بہت کم غزہ کا دورہ کرتے ہیں۔ حماس کا سحر آفرین اور کرشمائی چہرہ کہے جانے والے خالد مشعل دوحہ میں ہیں۔ ابو مرزوق اور خالد مشعل دونوں کے ساتھ حماس کے کے اہم رہنماوں کی ایک ایک ٹیم بھی بیرون ملک زندگی بسر کررہے ہیں۔

اسماعیل ہنیہ کی غزہ پٹی میں تحریک آزادی کے جنگجووں کے پاس سکونت اگرچہ ایک امتیاز کا حامل ہے لیکن ایک صورت سے ان کے لئے مضر بھی ہے وہ اس لئے کہ غزہ کی پٹی محاصرے میں ہے۔ حماس کی قیادت کا اس محاصرے میں رہنا اس کے تعلقات کو بھی محدود کر دے گا۔ اپنے اقدامات کے لئے صیہونیوں سے اجازت لینے والے مصر کی اجازت کے بنا حماس کے لیڈر غزہ سے کہیں باہر نہیں نکل سکیں گے اور یہ بات حماس کے لئے بہت نقصان دہ ہو سکتی ہے اور یہ فکرمندی اس حد تک غالب ہے کہ غزہ پٹی کی اکثر نشستوں میں گذشتہ سال تک یہ بحث جاری رہتی تھی کہ اسماعیل ہنیہ کو دوحہ میں سکونت اختیار کر لینا چاہئے۔ ان باتوں کو اس وقت اور تقویت ملی جب اسماعیل ہنیہ نے حج کے فرائض انجام دینے کے بعد چند ماہ دوحہ میں قیام کیا۔ لیکن 2017 کے اوائل میں ان کے غزہ پٹی واپس آنے کے بعد ان باتوں کا سلسلہ ختم ہوا۔

اندرونی اختلاف بڑھنے کا اندیشہ

رابطہ برقرا کرنے کے تمام وسائل کے باوجود دوریاں بہت سے اختلاف اور فیصلوں میں ناراضگی کا سبب بنتی ہے، دوحہ اور مصر میں موجود اپنے تجربہ کار اور منجھے ہوئے رہنماوں سے حماس سربراہ کی دوری پہلے سے موجود داخلی اختلافات کو اور زیادہ کر سکتی ہے۔ نہایت ضروری اور ہنگامی فیصلوں کے وقت یہ اختلافات حماس کی لئے بہت حساس اور نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

تحریک میں استحکام اور مضبوطی

اسٹیک ہولڈرز کا غزہ پٹی میں سرگرم عمل حماس کی عسکری ونگ سے نزدیک ہونا اس تنظیم کے استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ کیوںکہ اپنے سیاسی لیڈر کی موجودگی میں حماس کے فوجی افسران اپنے اقدامات کے سلسلے میں ان سے ضروری ہماہنگی اور مشورت کر سکتے ہیں۔ یہ صورت حال حماس کی عسکری قوت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

ہنیہ کے قتل کا شدید احتمال اور حماس کی کمزوری

چھوٹے سے رقبہ پر محیط غزہ کی پٹی میں اسماعیل ہنیہ کی موجودگی ان کے اپنے لئے بھی بہت خطرناک ہو سکتی ہے اگر اس علاقے میں اسرائیلی جاسوسوں کی کثیر تعداد کی بات کی جائے تو سمجھا جا سکتا ہے کہ حماس کے محافظ کس مشکل کا سامنا کرنے جا رہے ہیں۔ یہ مسئلہ واضح ہے کہ حماس کے فوجی افسران اسی علاقے میں زندگی بسر کرتے ہیں اور صیہونی قاتلوں سے محفوظ ہیں لیکن ہمیں دو بنیادی باتوں کو نہیں بھولنا چاہئے۔ پہلی یہ کہ حماس کے کئی کمانڈروں کو اسی علاقے میں شہید کیا جا چکا ہے جیسے احمد الجعبری یا رائد العطار جیسے کمانڈروں کی شہادت اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ اسماعیل کے قتل کا امکان بہت قوی ہے۔

دوسری یہ کہ فوجی افسران اپنے کام اور فوجی آپریشن کی نوعیت کے حساب سے اکثر مخفیانہ زندگی گزارتے ہیں اور انہیں عام ظاہرانہ زندگی گزارنے یا میڈیا میں منظرعام پر آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی لیکن حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اور ایک مذہبی شخصیت ہونے کے سبب اسماعیل ہنیہ کو بہت سے پروگراموں میں شریک ہونا ہوتا ہے اور منظر عام پر آنا پڑتا ہے اور یہ بات ان پر منڈلاتے خطرہ کو اور سنگین کر دیتی ہے۔

نتیجہ

مذکورہ مطالب کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ حماس کی سیاسی شاخ کے سربراہ کی حیثیت سے اسماعیل ہنیہ کی تقرری اس مزاحمتی تحریک میں نئی جان پھونک سکتی ہے لیکن ایک بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ کیا ایک مدت سے حماس میں جاری رسہ کشی اس بات کی اجازت دے گی کہ ایک نقص کی طرح شمار ہونے والی کمی کے برطرف ہونے کے بعد، یہ تحریک مستحکم اور مضبوط ہو؟

آخری نکتہ یہ کہ حماس کے سیاسی منشور کے منظر عام پر آنے کے فورا بعد حماس کے سیاسی دفتر کی سربراہی اسماعیل ہنیہ کے سپرد کرنے کا اعلان اور قیادت کی فلسطین منتقلی کے کئی معنی ہو سکتے ہیں اور حماس کے اس نئے اقدام کے کئی نتائج ہو سکتے ہیں اور یہ بات گزرتے وقت کے ساتھ ہی معلوم ہو سکتی ہے۔

وقت کا انتظار کرنا پڑے گا اور نئے رونما ہونے والے واقعات کی روشنی میں ہی مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں کوئی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری