ایران کی خارجہ پالیسی سپریم لیڈر ہی طے کرتے ہیں، امریکی حکام

خبر کا کوڈ: 1416707 خدمت: ایران
روحانی

ٹرمپ کے معاونین کا کہنا ہے کہ 5+1 سے ایران کے جوہری معاہدے کے بعد بھی خطے میں تہران کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، ان کا نظریہ ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر ہی ایسی سیاسی پالیسی کا انتخاب کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکی روزنامہ وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ ایران کے بارہویں صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کی جیت، ایران کے متعلق سیاسی پالیسی کی وجہ سے یورپ اور امریکہ کے تعلقات میں اختلاف کا سبب بنے گی۔

اس رپورٹ کے مطابق جہاں ایک طرف یورپ نے حسن روحانی کی جیت کا استقبال کیا ہے وہیں دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب میں عرب اور مسلم سربراہوں کے اجلاس میں عالمی سماج سے اپیل کی ہے کہ وہ مشرق وسطی میں ایران کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لئے متحد ہوں۔

ٹرمپ نے اس اجلاس میں ایرانی عوام کی منتخب حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور اپنے مداخلتی انداز میں یہ پیغام دیا کہ وہ ایران کے موجودہ نظام کو قبول نہیں رکھتے اور ان کا ہدف اس نظام کا خاتمہ ہے۔

ٹرمپ نے بیان دیا کہ جب تک ایرانی نظام صلح و آشتی کے لئے راضی نہیں ہوتا عالمی برادری کو کوشش کرنی چاہئے کہ اس طرز کے نظام کو اکھاڑ پھینکے اور دعا کریں کہ ایرانی عوام ایک دن عدل پرور اور اپنے لئے مفید حکومت میں سانس لے سکیں۔

یورپی ممالک کے حکام امید رکھتے ہیں کہ روحانی اپنے چار سالہ دور حکومت میں شام، عراق اور یمن کے متعلق ایران کی پالیسی کو بدلنے میں کامیاب رہِیں گے جبکہ ٹرمپ کے چند معاونین کو اس بات کی امید ہے کہ شاید ہی وہ ایسا کر سکیں۔

ٹرمپ کے حامی امریکی حکام کا ماننا ہے کہ ایران اور 5+1 ممالک کے جوہری معاہدے کے بعد بھی خطے میں ایران کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ان پالیسیوں کے انتخاب کا اختیار ایران کے عظیم سپریم لیڈر کو حاصل ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری