شامی فوجی جرنیل کی تسنیم کے صحافی سے گفتگو

داعش سے مربوط امریکہ کا خطرناک منصوبہ/ شام اور عراقی فوجوں میں بہترین ہماہنگی

خبر کا کوڈ: 1416807 خدمت: دنیا
عراق اور شام

شامی جرنیل محمد عباس نے امریکی سازش کا راز فاش کرتے ہوئے اور عراق و شام کی فوجوں کے درمیان بہترین ہماہنگی کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ دیرالزور کی آزادی شام کا اسٹریٹجک ہدف ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم کے مطابق فوجی تجزیہ کار جرنیل محمد عباس نے تسنیم کے صحافی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جنوبی شام میں امریکی تجاوز کے حوالے سے کہا کہ عراق اور شام کی سرحد کے نزدیک امریکہ نے دہشت گردوں کو سیدھی مدد پہنچانے کے لئے حملہ کیا۔

داعش سے منسلک یہ گروہ شمالی اردن میں جیش العشائر اور جیش السوریا الجدید کے نام سے سرگرم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شام کی متحدہ افواج نے شام کے بعض بیابانی علاقوں میں نفوذ پیدا کر چکے ان دہشت گرد تنظیموں کے ہدف کا بھانپ لیا ہے اسی لئے فوج نے شمالی مشرقی اور جنوب مشرقی صحراوں کی طرف تیزی سے قدم بڑھا دئے ہیں جسے دیکھ کر اردن میں آمدہ شیر کے عنوان سے فوجی مشق کرنے والے امریکہ اور دیگر حریفوں میں فکرمندی گھر کر گئی ہے ہماری اطلاع کے مطابق ان دہشت گرد تنظیموں کا مقصد دیر الزور پر قابض ہوکر عراق اور شام کے درمیان جغرافیائی رابطہ کو ختم کرنا تھا۔

شامی افواج مشرق کی طرف بڑھ رہی ہیں تاکہ مذکورہ سازش کرنے والے امریکہ کا راستہ روکا جاسکے اور اپنے اسٹریٹجک ہدف کو حاصل کرتے ہوئے دیرالزور سے داعش کے محاصرہ کو ختم کیا جا سکے۔

محمد عباس نے امریکہ کے داعش سے جنگ کے دعووں کی بھانڈا پھوڑتے ہوئے کہا کہ امریکہ دعوی کر رہا ہے کہ وہ اس خطہ میں داعش سے بر سر پیکار ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ شامی افوج سے ٹکرانا چاہتا ہے تاکہ عراق اور شامی افواج کا باہمی رابطہ ختم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ عراق اور شامی افواج کے درمیان بہترین مفاہمت پائی جاتی ہے اور ہم اس رابطہ کو اور مستحکم بنانے کے لئے پرعزم ہیں۔

امریکہ شام کی مقاومت کو ختم کرنا چاہتا ہے دہشت گردوں سے جنگ اور ان کا خاتمہ امریکی مفادات کے خلاف ہے۔ 

وہ دعوی کرتا ہے کہ وہ موصل، رقہ اور دیر الزور کو داعش کے وجود سے پاک کرنا چاہتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ داعش کو لیکر کہاں جائے گا؟َ؟

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری