بھارتی میڈیا: پاکستان بھی افغانستان میں امریکی ایجنڈے کا شکار ہوگیا

خبر کا کوڈ: 1417708 خدمت: پاکستان
مک مستر

امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لئے ان کے ملک کی جدید پالیسی میں پاکستان بھی شامل ہے کیوںکہ واشنگٹن اسلام آباد کی دہشت گردوں کی حمایت کرنے کی سیاست کا مخالف ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے نیو دہلی ٹائمز کے حوالے سے لکھا ہے کہ امریکی قوم سلامتی کے مشیر جنرل میک ماسٹر نے کہا ہے کہ افغانستان کے لئے جلد ہی امریکہ کی نئی پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔

امریکہ کی اس نئی سیاسی پالیسی میں پاکستان بھی شامل ہوگا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکی حکام نے تاکید کی تھی کہ ان کی نئی سیاسی پالیسی صرف افغانستان کو مد نظر رکھ کر بنائی جائے گی۔

میک ماسٹر نے اس سلسلے میں مزید کہا کہ آئندہ چند ہفتوں میں ہمارے پاس بہترین فرصت ہے کہ ہم اس خطے کے لئے ایک با اثر اسٹریٹجک پلان بنا سکیں۔

دھیان رہے کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنی فوجیوں کی تعداد کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹرمپ کے غیر ملکی دوروں سے واپسی کے بعد ان فوجیوں کی تعیناتی کی تاریخ کا تعین کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے امریکی قومی سلامتی کے مشیر میک ماسٹر اور اس کی سیکورٹی ٹیم کو افغانستان، پاکستان اور جنوبی ایشیا کے لئے سیاسی پالیسی کے تعین کا اختیار دیا ہے۔

میک مسٹر افغانستان میں پانچ ہزار فوجیوں کی تقرری پر غور کر رہے ہیں نیز انہوں نے اپنے نیٹو اتحادی ممالک سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ افغانستان میں مزید فوجی بھیجیں۔

بظاہر افغانستان میں موجود امکانات پر غور کرنے کے لئے امریکہ اور اس کے حواریوں کو مزید وقت درکار ہے۔

میک ماسٹر نے پاکستان اور اس کے ذریعے دہشت گردوں کو ملنے والی مدد کے سلسلے میں بھی کہا کہ امریکہ دہشت گردوں کو حمایت کرنے والی پاکستانی پالیسی سے بیزار ہے۔ ہم نے اس ملک پر دباو بڑھا دیا ہے تاکہ وہ ان کاموں سے باز آئے۔ 

دوسری طرف دہشت گرد تنظیموں کا صفایا چین پاکستان اقتصادی کوریڈور کی سلامتی اور امن کا ضامن ہوگا تو شاید چین بھی اس سلسلے میں اب کوئی دخل اندازی نہ کرے۔

اس ہندوستانی روزنامہ نے لکھا ہے کہ پاکستان کے شدت پسند جو 1980 کے بعد سے اب تک افغانستان کو بڑی بڑی شہنشاہیتوں کا قبرستان بنانے میں کامیاب رہے ہیں، ایک بار پھر متحد ہو جائیں گے تاکہ وہ بھی امریکہ کے خلاف اپنی پالیسی کا تعین کر سکیں۔

اس مقالہ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ دنیا کو ابھی اندازہ نہیں ہوا ہے کہ پاکستان اپنے پر امن اور متمدن پڑوسیوں کے لئے کیسی کیسی خطرناک اور سخت مشکلیں کھڑی کر سکتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری