ریاض میں ٹرمپ کے تفرقہ آمیز رویے پر عالمی تجزیہ نگاروں کا رد عمل

خبر کا کوڈ: 1417785 خدمت: اسلامی بیداری
ترامپ

ریاض میں ایران مخالف اجلاس میں ٹرمپ کی تقریر کا اگرچہ عرب سربراہوں نے استقبال کیا ہے لیکن عالمی سطح پر تجزیہ نگاروں نے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران مخالف ریاض اجلاس میں ٹرمپ کی تقریر کا اگرچہ عرب ممالک کے سربراہوں نے استقبال کیا ہے لیکن عالمی سطح پر سوشل میڈیا سے لیکر ہر فورم پر منفی رد عمل سامنے آیا ہے۔

ٹرمپ کی ایران مخالف تقریر کے بعد عرب ممالک کے سربراہوں میں نئی جان سی آ گئی تھی۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور قرقاش نے فوری طور پر ٹوئیٹ کیا کہ "بریو صدر جمہور ٹرمپ" اس نے ٹرمپ کی تقریر کو تاریخی اور پر اثر قرار دیا۔

دبئی کے محکمہ انتظام امن کے سربراہ ضاحی خلفان تمیم نے بھی انور جیسا بیان دے کر ٹرمپ کی تقریر کا استققبال کیا۔

یاد رہے کہ ضاحی خلفان تمیم نے پہلے بھی سات مسلم اکثریت والے ممالک کے باشندوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی لگانے کے ٹرمپ کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا تھا۔

تمیم نے ٹوئیٹ کیا کہ ریاض اجلاس میں ایران کو اسلامی دنیا سے الگ رکھا گیا جب کوئی اپنی دنیا برباد کرنے کے چکروں میں لگا رہے تو وہ دنیا سے مٹ ہی جائے گا۔

لیکن اکثر شخصیات نے ٹرمپ کی تقریر کا کوئی استقبال نہیں کیا بلکہ اس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

مصر کے 29 سالہ حسین سلامہ نے ٹرمپ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں میں سعودی عرب کے کردار پر کوئی بات نہیں کی۔

سلامہ نے امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمز کو دئے گئے انٹرویو میں کہا کہ اس طرز سلوک کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ دہشت گردی اور اس کے تفکر کے اصل مصدر سعودی عرب کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

اس مصری نوجوان نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے سب سے بڑے محرک سعودی عرب کو اس مشکل کے حل و فصل کے لئے اہم کردار نبھانے کے لئے کہہ رہا ہے۔

فلسطینی مزاحمت تنظیم حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے ٹرمپ کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے بیان نے فلسطینی عوام کی جنگ آزادی اور مجاہدوں کی توہین کی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے فلسطینی مزاحمت تحریک حماس کو القاعدہ اور داعش کی صف میں شمار کیا ہے۔

برہوم نے غاصب صیہونیوں کی حمایت کرنے کے لئے ٹرمپ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حماس ایک قومی اور فلسطین کی آزادی کے لئے لڑنے والی مجاہد تنظیم ہے۔

سعودی متجاوز اتحاد کے حملوں کا شکار یمن میں بھی ہزاروں شہریوں نے ٹرمپ کے سعودی سفر کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

یمنی روزنامہ الیوم کے صحافی فارس سعید نے ٹوئیٹ کیا ہے کہ ٹرمپ کی تقریر کا سب سے عمدہ حصہ یہ ہے کہ انہوں نے یمن میں سعودی جرائم پر خراج تحسین دی ہے، وہ جنگی جرائم جن کے سبب ہزاروں بے گناہ یمنی جاں بحق ہوئے ہیں۔

اردن کے ایک قانون دان گانضی امین نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے کہ اس سفر میں خرچ ہونے والی خطیر رقم کا کچھ حصہ ہی یمن میں پھیلی وبا کے علاج میں صرف ہوتا۔

امریکہ کی مسلم تنظیموں نے بھی ٹرمپ کی تقریر پر شدید تنقید کی۔

جامعہ مسلمانان احدیہ کے ترجمان نے ایک امریکی چینل سے ٹیلی فون پر بات چیت میں امریکہ اور سعودی عرب کے تسلیحاتی معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی نقطہ نظر سے اسلحوں کی خرید و فروخت جھڑپوں، جنگوں اور شدت پسندی میں اضافے کا سبب بنتی رہی ہے۔

نیویارک ٹائمز نے ٹرمپ کی جانبدارانہ تقریر اور ایران مخالف رویے کو لیکر خبردار کیا ہے۔

کارنگی تھنک ٹینک کے سینیئر رکن فریڈرک وہری کا کہنا ہے کہ ہم جیوپولیٹیک رقابت میں ایک خیمے کی حمایت کر رہے ہیں جس کا ایک ادنیٰ سا نمونہ فرقہ وارانہ کشیدگی ہے اور ہم غلط روش پر چلتے ہوئے اس فرقہ وارانہ رقابت میں ایک خیمے کی حمایت کر رہے ہیں۔

انہوں نے سوالیہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیا خطے میں موجود مشکلات کا سبب ایران ہے ؟ نہیں ایسا بالکل نہیں ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری