سعودی بادشاہ، امریکی صدر کا ناچ اور عدنان سمیع کے چبھتے ہوئے سوالات + ویڈیو

خبر کا کوڈ: 1417851 خدمت: دنیا
ٹرمپ اور سعودی شاہ کا ناچ

امریکی صدر کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر شاہ سلمان اور صدر ٹرمپ کے مشترکہ ناچ پر عدنان سمیع نے کچھ ایسے سوال اٹھا دیئے ہیں کہ دنیا بھر کے مسلمان سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔  

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب پر پوری دنیا کی نظر تھی اور اس دوران پیش آنے والے تمام واقعات کو پوری دنیا کے میڈیا پر دکھایا گیا۔

ٹرمپ نے اپنے دور کے دوران سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کے ساتھ مل کر تلوار پکڑ کر روائتی رقص بھی کیا جس پر عدنان سمیع نے کچھ بنیادی سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا ”پیارے مسلم علماء۔۔۔آپ سب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام میں موسیقی حرام ہے؟ یہ سعودی عرب ہے، یہ گانا ہے اور اس کا شاہی خاندان رقص کر رہا ہے! آپ سب کے فتوے اب کہاں ہیں؟

انہوں نے یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمان ممالک کے باشندوں پر عائد سفری پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ”اور ہاں۔۔۔ ٹرمپ بھی یہاں ہیں۔ آپ جانتے ہیں، جس نے مسلمانوں پر سفری پابندیاں وغیرہ عائد کیں۔

عدنان سمیع کی جانب سے یہ بیانات جاری ہونے کے بعد پوری دنیا کے مسلمان صارفین سوشل میڈیا پر اپنے اپنے انداز سے انہیں جواب دینے میں مصروف ہیں۔

تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ علماء کرام اسلام میں موسیقی اور ناچ گانے کو حرام قرار دیتے ہیں۔

البتہ یہ عین ممکن ہے کہ آل سعود کے بادشاہوں کے لئے اسلام کے اس واضح حکم میں بھی کوئی ترمیم یا نرمی کر دی گئی ہو۔

آخرکار خادم حرمین شریفین کا اسلام پر اتنا حق تو بنتا ہی ہے۔

    تازہ ترین خبریں