ریاض اجلاس پر فلسطینیوں کا رد عمل؛

ریاض میں ٹرمپ نے گمراہ کیا ہے/ امت مسلمہ ہوشیار رہے، دشمن اسرائیل ہے ایران نہیں/ ویڈیو + تصاویر

خبر کا کوڈ: 1418555 خدمت: اسلامی بیداری
غزه/سفر ترامپ/5

فلسطینی مزاحمتی تحریک کے رہنماوں نے غاصب اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کی بعض عرب رہنماوں کی کوششوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فائدہ صرف غاصب صیہونیوں کو ہی حاصل ہوگا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق ریاض اجلاس میں فلسطینی مزاحمت کا سامنا کرنے کے لئے جو باتیں کہی گئیں، وہ متحد ہونے کے لئے ہمارے عزم و ارادے کو اور مستحکم کرتی ہیں۔ غاصب صیہونی اپنے دست راست امریکہ اور ان کے جرائم میں شریک آل سعود کی مدد سے کھلم کھلا فلسطینی مزاحمت کو کچلنے کی کوششوں میں سرگرم ہیں کیونکہ ٹرمپ نے اپنے سفر کے آغاز میں ہی کہا تھا کہ ان کے تل ابیب اور ریاض دوروں کا اصل ہدف عربوں اور صہیونیوں کے درمیان تعلقات استوار کرنا ہے۔

فلسطین کی قومی محاذ تنظیم کے رہنما ہانی الثوابتہ کا کہنا ہے کہ ہم اس امریکی صدر کے دورے کا استقبال نہیں کر سکتے کیوںکہ اس دورے سے متعدد خطرات لاحق ہیں۔ ان دوروں کا سب سے بڑا خطرہ کچھ عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات قائم کرتے ہوئے فلسطینی ارمانوں کا گلا گھونٹنا ہے۔ مسئلہ فلسطین اپنی تاریخ کے سب سے نازک دور سے گزر رہا ہے۔ فلسطینی تحریک کے رہنما ہوشیار رہیں اور اپنے وطن اور سرزمین مزاحمت کی طرف واپس لوٹ آئیں۔

ٹرمپ دوروں کے پیش نظر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا اور امریکی صدر کے مقبوضہ فلسطین اور سعودی دورے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

مزاحمتی تنظیموں نے اعلان کیا کہ یہ دورے صرف صیہونی مفادات کے حصول کی خاطر کئے گئے ہیں کیوںکہ امریکہ حسب سابق آج بھی ہمارا دشمن ہے۔ اس نے صیہونیوں کی مدد میں کبھی کوئی کوتاہی نہیں کی ہے۔

تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے رہنما خالد البطش نے کہا کہ فلسطینی ارمانوں پانی پھیرنے کی اس سیاسی سازش سے سب سے زیادہ فائدہ جسے حاصل ہوگا وہ غاصب صیہونی ہے۔ ہم اس سازش کے انجام اور نتائج کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں ہم امت مسلمہ اور اپنی عوام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سازش کا سامنا کریں۔ ہم عرب معاشرے، سعودی عرب اور خلیج فارس کی دیگر عرب حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے آباواجداد کی غطیوں کو نہ دہرائیں جب انہوں نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف برطانیہ کیساتھ اتحاد کیا تھا جس کا نتیجہ غاصب صیہونی ریاست کا قیام اور بہت سے ممالک اور حکومتوں کا زوال تھا۔ ہمیں خبردار اور ہوشیار رہنا چاہئے کہ امت مسلمہ کا دشمن ایران نہیں بلکہ اسرائیل اور اس کی حمایت کرنے والے اسلام اور امت مسلمہ کے دشمن ہیں۔

ان دوروں کا ہدف غاصب صیہونی اور فلسطین اتھارٹی کے درمیان براہ راست بات چیت نیز دو طرفہ روابط کو بڑھانا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کوشش کر رہا ہے کہ فلسطینی خوابوں کا گلا گھونٹ کر امریکہ کی خوشنودی حاصل کرے تاکہ اپنے آپ کو یمن کی دلدل سے نکال سکے۔

    تازہ ترین خبریں