تحریر: آر اے سید

امریکی صدر کا ریاض دورہ اور آل سعود کی گیدڑ بھبکیاں (آخری قسط)

خبر کا کوڈ: 1418845 خدمت: مقالات
ٹرمپ سعودی دورہ

متنازعہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے بیرونی دورے میں حسب توقع کئی تنازعے کھڑے کردئیے ان کا سعودی عرب کا ہنگامہ خیز دورہ حسب توقع ایرانوفوبیا سے شروع ہوا اور اسلام و مسلمین مخالف امریکی سعودی مشترکہ بیانیہ پر اختتام پذیر ہوگیا۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: دنیا کی سب سے مقدس ترین سرزمین پر امریکی صدر ان کی اہلیہ، ان کا یہودی داماد اور بیٹی نے دین اسلام کی تعلیمات کا مذاق اڑایا لیکن ہمیں امریکہ یا غیروں سے کیا گلہ اگر آل سعود کفر و نفاق کا یہ بازار نہ سجاتے تو آج سرزمین حجاز سے یہ خبریں سننے کو نہ ملتیں۔ 

امریکہ اندرکھاتے سعودی عرب کو دودہ دینے والی بھینس قراردیتا رہا جبکہ بظاہر اسے نے سعودی حکام کے ساتھ تلواروں کا رقص بھی انجام دیا۔اسی طرح امریکی صدر نے سعودی عرب کے بعد غاصب اسرائیل کا دورہ کرکے دنیا پر ثابت کردیا کہ وہ امریکہ کے سابق صدور کیطرح اسرائیل کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ریاستی دہشت گردی کے سرغنے اور انسانیت کے خلاف جرائم میں بےنظیر صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات میں  انہوں نےایران کے خلاف جارحانہ انداز اپناتے ہوئے ایران کو اپنا دشمن نمبر ایک قراردیا البتہ یہ کام وہ ریاض میں بھی انجام دے چکے تھے۔دوسری طرف آل سعود بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ کسی کا نہیں لہذا وہ برطانیہ خاص کر روس سے بھی اپنے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اسکو بھی یقین دلاچکے ہیں کہ سعودی عرب روس سے بھی ہتھیار خریدے گا۔
 بہرحال ٹرامپ کے دورہ ریاض کے اختتام پر امریکہ اور سعودی عرب کی طرف سے جو مشترکہ بیان سامنے  آیا ہے اس میں ایران پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ علاقائی ممالک میں مداخلت کا مرتکب ہو رہا ہے اسی طرح بقول انکے ایران علاقے اور دنیا کے لئے خطرہ ہے۔ اس مشترکہ بیانیے میں ایران اسلامی اور پانچ جمع ایک ممالک کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے پر جس میں امریکہ خود بھی شامل تھا نظر ثانی کرنے کی بات کی گئی ہے۔بات ایٹمی سمجھوتے تک محدود نہ رہی بلکہ امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ بیانیے میں ایران کے میزائلی پروگرام کو بھی عالمی امن کے لئے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔اگر اس اعلامیہ کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ اعلامیہ تین بنیادی نکات کے گرد گھومتا ہے اور اس کا بنیادی ہدف ایران و فوبیا کی ترویج  کرنا اور عربوں کو ایران کی طاقت سے خوفزدہ کرناہے۔
ایران کو علاقائی ممالک کے امور میں مداخلت کا ذمہ دار ٹھہرانا،  طے شدہ ایٹمی معاہدے کو متنازع بنانا اور ایران کے میزائل پروگرام کو خطرہ بنا کر پیش کرنا حقیقت میں ایرانو فوبیا ہی ہے۔ البتہ یہاں پر  قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ایرانو فوبیا کے اس منصوبے کے پیچھے کونسے  اصلی اہداف پوشیدہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کے بقول اس کا ایک بڑا مقصد ایرانو فوبیا کا ماحول پیدا کرکے عرب ممالک کو ایران سے خوف زدہ کرکے امریکی ہتھیاروں کی زیادہ سے زیادہ  فروخت کو ممکن بنانا اور مغرب کی مردہ ہتھیاروں کی صنعت کو  ایک بار پھر مسلمانوں کے سرمائے سے زندہ کرنا ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تقریبا" تین سو اسی ارب ڈالر کے مختلف  فوجی اور غیر فوجی سمجھوتوں کا انجام  پانا اسی مزموم منصوبے کا حصہ  ہے۔
ایک اور  بڑا ہدف خطے کے اسلامی ممالک میں اختلافات،کشیدگی،عدم استکام اور تفرقہ پیدا کرنا ہے اور اس حوالے سے سعودی عرب  کا انتخاب کیا گیا ہے اور ریاض میں  چند دن پہلے منعقدہونے والی امریکہ سعودی کانفرنس میں اس منصوبے کو زیربحث لایا گیا۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ اس اجلاس میں ایران سمیت حماس ،حزب اللہ  اور  اسرائیل مخالف قوتوں کو دہشتگرد اور دہشتگردی کا حامی قراردیا گیا لیکن امریکہ اور اسرائیل جیسے اسلام و مسلمین کے دیرینہ دشمنوں کو اسلام کے حامی ممالک ظاہر کرنے کی مزموم  حرکت کی گئی۔ سعودی عرب ایک  ایسے دورمیں ایران  کو علاقے کے لئے خطرہ بنا کر پیش کرنے کی سازش کر رہا ہے کہ خود اس ملک کا جنگ پسندانہ اور مسلمان ممالک کے اندر اختلافات پیدا کرنے والا  منفی کردار طشت ازبام ہوچکا ہے۔ ایرانو فوبیا منصوبے کا دوسرا اہم  ہدف ایران کوسیاسی طور پر تنہا کرنا ہے امریکہ اور صیہونی حکومت ایک سازش کے تحت سعودی عرب کو اپنے مقاصد کے لئے  الہ کار کے طور پراستعمال کررہے ہیں اور اس سناریوکا آخری نتیجہ سعودی عرب کے لئے  انتہائی تباہ کن ثابت ہوگا۔سعودی عرب کو اس کھیل میں شکار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے جس میں اسکے  پیٹروڈالر کو امریکی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے ۔سعودی عرب اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف  بےبنیادجعلی پروپگینڈے کر کے بظاہر اپنے آپ کو مضبوط ظاہر کرنےکی کوشش کررہا ہے جبکہ دوسری طرف  امریکہ،اسرائیل اور غاصب اسرائیل علاقے میں بد امنی اور دہشتگردی کو رواج دے رہےاور یہی دہشتگردانہ رویہ اور انسان دشمن  اقدامات امریکہ سے پہلے سعودی عرب کی تباہی و بربادی کا باعث بنیں گے اسی لئیےاسلامی جمہوریہ ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کو صلاح دی ہے کہ وہ اپنی جنگ پسندانہ اور مداخلت پسندانہ پالیسیوں، ایرانوفوبیا پھیلانے کے اقدامات اور دہشت گردوں کے اصلی حامیوں کو خطرناک اور بے فائدہ ہتھیار فروخت کرنے سے باز آجائیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ریاض اجلاس میں امریکی صدر کے ایران مخالف تکراری دعؤوں اور مداخلت پسندانہ بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ امریکی صدر کو چاہئے کہ وہ دوسرے ملکوں کے امور میں مداخلت کرنے، جنگ پسندانہ پالیسیوں اور دہشت گردوں کے حامی ملکوں کو خطرناک ہتھیار فروخت کرنے سے باز آجائیں-
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران میں بارہویں صدارتی انتخابات کے شاندار انعقاد کے محض اڑتالیس گھنٹوں کے بعد ہی جب ایران کے عوام نے پولنگ اسٹیشنوں پر وسیع پیمانے پر شرکت کر کے ایران کے اسلامی جمہوری نظام سے اپنی وفاداری کو ایک بار پھر ثابت کر دیا، امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنے مداخلت پسندانہ، تکراری اور بے بنیاد الزامات عائد کر کے ایک بار پھر کوشش کی ہے کہ وہ ایرانوفوبیا پھیلائیں۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر نے اپنے اس خطاب میں کوشش کی ہے کہ وہ ایرانوفوبیا کے ذریعے علاقے کے ملکوں کو زیادہ سے زیادہ امریکی ہتھیار خریدنے کی ترغیب دلائیں-
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ٹرمپ کے مداخلت پسندانہ اور  علاقے کے عوام کو دھوکہ دینے والے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات صرف علاقے کی قوموں کی آزادی کا مقابلہ کرنے اور خطے میں صیہونی حکومت کی بالادستی قائم کرنے کے لئے ہیں-
انہوں نے کہا کہ افسوس کہ علاقے کی بعض حکومتیں اپنی عوامی قوتوں پر بھروسہ کرنے اور علاقائی تعاون  کے بجائے بڑی طاقتوں کی حمایت پر منحصرہو گئی ہیں اور علاقے کے ملکوں کی بنیادوں اور بنیادی تنصیبات کو کمزور اور تباہ کرنے کا راستہ ہموار کر رہی ہیں جن میں یمن کی افسوسناک صورتحال اور شام میں تکفیری دہشت گردوں کے ذریعے بنیادی شہری تنصیبات کی تباہی کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہے-
وزارت خارجہ کے ترجمان نے علاقے کے ملکوں کے داخلی امور میں امریکا کی سابقہ حکومتوں کی مداخلت کے سلسلے میں امریکی حکام کے موقف کے غلط ثابت ہونے اور داعش جیسے خونخوار دہشت گرد گروہ کو وجود میں لانے پر مبنی امریکا کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی حکومت سے کہا کہ وہ اپنے اس قسم کے اقدامات سے باز آجائے-
انہوں نے علاقے کی حکومتوں سے بھی کہا کہ وہ امریکا کی فرضی حمایت کے بدلے ہتھیاروں کی خریداری میں اپنے عوام کی دولت خرچ کرنے کے بجائے اپنے عوام کی رفاہ و آسائش کے لئے اقدام کریں اور اتنی خطیر رقم، اپنے اپنے ملکوں کی ترقی اور علاقے میں تعمیری تعاون پر خرچ کریں-
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے لئے امریکا اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی حمایت اس قدر آشکارا ہے کہ دوسروں پر دہشت گردی کی حمایت کا مورد الزام ٹھہرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا  اور علاقے کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر داعش، جبہۃ النصرہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی مالی امداد اور ان کے ذرائع بند ہو جائیں تو ان گروہوں کا بہت ہی آسانی سے قلع قمع کیا جا سکتا ہے-
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران ایک جمہوری اور طاقتور ملک ہے کہ جس کو اپنے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور ایران علاقے میں امن و صلح اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کا منادی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پوری دنیا میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ کا حامی ہے اور امریکا اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی بیان بازیوں سے اپنے اصولی موقف سے کبھی پیچھے بھی نہیں ہٹے گا

    تازہ ترین خبریں