قوت ایمانی سے تمام مشکلات اور سختیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے/ کیا ہمارے دلی اطمینان اور سکون کے لئے صدام سے جنگ کا تجربہ کافی نہیں ہے؟

امام خامنہ ای نے تاکید کی کہ اسلامی ممالک پر شہادت اور جہاد جیسے اسلامی موضوعات کو حذف کرنے کی جو فکر زبردستی لاگو کی جاتی تھی وہی تفکر ثقافتی سیاست کے نام پر اندرون ملک بھی پائی جا رہی ہے۔

قوت ایمانی سے تمام مشکلات اور سختیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے/ کیا ہمارے دلی اطمینان اور سکون کے لئے صدام سے جنگ کا تجربہ کافی نہیں ہے؟

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر حضرت آیۃ اللہ خامنہ ای نے کمانڈرز، مجاہدین اور فن کاروں سے ملاقات کرتے ہوئے آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ اور اس کی یادوں کو شعر، ادب، اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ نئی نسل تک پہنچانے کو ایک عظیم کام قرار دیتے ہوئے کہا کہ دفاع مقدس کا ایک اہم درس یہ تھا کہ اگر انسان دل کی گہرائیوں کے ساتھ خدا پر ایمان رکھتے ہوئے میدان عمل میں خدا پر توکل اور بھروسہ رکھے تو تمام مشکلات اور سختیوں پر قابو پا سکتا ہے۔

حضرت آیۃ اللہ خامنہ ای نے دفاع مقدس کے دور کا ایک اہم ثمر میدان عمل میں خدا پر اعتماد اور توکل، عالمی طاقتوں سے بے خوفی کو مشکلات کا حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر انسانی معاشرہ ترقی کی راہ میں مشکلات اور سختیوں سے دچار ہوتا ہے اور اگر یہ معاشرہ دنیا طلب نہ ہو کر معنوی اقدار کا حامل ہو تو مشکلات اور زیادہ ہونگیں ایسے سماج میں عملی زندگی میں خدا پر توکل اور مشکلات پر قابو پا لینے کا یقین اور احساس بہت ضروری ہے۔

امام خامنہ ای نے تاکید کی کہ اگر دل میں ایمان اور عملی میدان میں خدا پر توکل و اطمینان ہو تو ایسے مستحکم عزم و ارادہ کے سامنے پہاڑ بھی راستہ دے دیتے ہیں۔

انہوں نے صدام کی توسط سے مسلط کی گئی جنگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ابتدائی دو سالوں میں دشمن اہواز سے 10 کیلومیٹر کے فاصلہ پر تھا اور ہم فوجی ساز و سامان اور فوجی طاقت کے حوالے سے بہت بری حالت میں تھے اور دنیا کی ساری بڑی طاقتیں امریکہ، نیٹو، سابق سوویت یونین، خطے کے تمام ممالک اسلامی جمہوریہ ایران کے مد مقابل تھے، ان سخت حالات میں ہم ان تمام مشکلات اور سختیوں پر قابو پانے میں کامیاب رہیں، کیا یہ عملی تجربہ ہمارے اطمینان اور دلی سکون کے لئے کافی نہیں ہے ؟

حضرت آیۃ اللہ امام خامنہ ای نے دفاع مقدس کے آثار کو قومی اور ملی سرمایہ قرار دیتے ہوئے ان کی تدوین اور جذاب شکل میں نسل نو تک منتقل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا: "ان یادوں کو نسل نو تک منتقل کرنا ایک صدقہ جاریہ اور معنوی خیرات و سخاوت ہے جو اس سلسلہ میں کام کر رہے ہیں۔ در حقیقت وہ اور خدا ملک کے درمیان معنوی رزق کا واسطہ ہیں۔"

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اسلامی ممالک پر اپنے نصاب تعلیم سے شہادت اور جہاد جیسے موضوعات کو حذف کرنے کے لئے دباو ڈالنے والی جو فکر اور سوچ کار فرما رہی ہے، وہی فکر ثقافتی اور تہذیبی سیاست کے نام پر اب اندرون ملک بھی رواج پا رہی ہے۔ کسی بھی صورت می اس بات کی طرف سے غفلت نہ برتی جائے۔ دفاع مقدس، جھاد اور شہادت کے جذبے کو زندہ اور سلامت رکھا جائے تاکہ ہماری موجودہ نسل دفاع مقدس کی بلند و بالا تاریخ رقم کرنے والی نسل سے متصل ہو جائے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی ایران خبریں
اہم ترین ایران خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری