ٹرمپ کے دورہ ریاض کے بعد حمایت یافتہ فرقہ واریت کو تقویت ملی، ایران

خبر کا کوڈ: 1420714 خدمت: ایران
بہرام قاسمی

ایران اور حزب اللہ کی جانب سے مصر کے صوبے المنیا میں عیسائیوں سے بھری بسوں پر حملے کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے مصر کے صوبے المنیا میں عیسائی مسافروں سے بھری دو بسوں پر ہونے والے حملے پر سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ ریاض کے بعد دنیا بھرمیں دہشتگردی کے واقعات میں مذید شدت آئی ہے جن میں لندن، فلپائن، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ میں ہونے والے دھماکے و حملے اور مصر میں خونریز فائرنگ جیسے دہشت گردانہ واقعات شامل ہیں۔

علاوہ ازیں سعودی عرب کے شہر قطیف، بحرین اور یمن میں خونریزی کا بخوبی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ریاض میں حالیہ اجتماع دہشتگردی کے زیرغور تھا لیکن وہابی تکفیری افکار کے مکتب و مرکز اور دنیا کے مختلف ملکوں میں مسلح دہشت گردی کی مالی و لاجسٹیک حمایت کے سوا اور کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

بہرام قاسمی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ حمایت یافتہ فرقہ واریت و انتہا پسندی کا براہ راست نتیجہ، بے گناہ انسانوں منجملہ مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر ادیان کے پیروکاروں کا خون بہنے کی صورت میں نکلا ہے، کہا کہ تمام عالمی اداروں اور ملکوں کی یہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے کہ وہ سب کی سلامتی کی کوشش اور دہشت گردی کا حقیقی طور پر مقابلہ کریں۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز نامعلوم دہشتگردوں نے مصر کے صوبے المنیا میں عیسائیوں سے بھری بسوں پر حملہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں 34 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد لوگ زخمی ہو گئے تھے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری