تحریر: آر اے سید

رمضان المبارک اور تباہ حال مشرق وسطی (پہلا حصہ)

خبر کا کوڈ: 1420924 خدمت: مقالات
مشرق وسطی

رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مشرق وسطی کی مسلمان آبادیاں مساجد کو آباد کریں گی یا اپنے بیوی بچوں کو داعش اور النصرۃ کے درندوں سے بچانے کے لیے محفوظ پناہ گاہوں میں لے جائیں گی؟

خبر رساں ادارہ تسنیم: اس میں کوئی شک نہیں کہ رمضان المبارک برکتوں، نعمتوں، عبادتوں اور خداوندعالم سے زیادہ سے زیادہ قرب حاصل کرنے کا مہینہ ہے۔ کرہ ارض پر موجود تمام مسلمان اس مہینہ کی برکتوں سے استعفادہ کرتے ہیں اور جونہی ماہ مبارک رمضان شروع ہوتا ہے تو مسلمانوں کے گھروں، مساجدوں اور عبادت گاہوں میں قرآن مجید کی تلاوت کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو جاتی ہیں لیکن گزشتہ چند سالوں سے عالم اسلام بلخصوص مشرق وسطی کے مسلمانوں کو ایسی صورتحال پیش ہے جس سے یہ مسلمان رمضان کی فیض و برکات سے کماحقۃ استعفادہ کرنے سے قاصر ہیں۔

آج جب کہ دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمان ماہ رمضان المبارک کے استقبال میں مصروف ہیں علاقے کے بعض ممالک من جملہ شام، یمن، عراق، فلسطین اور بحرین میں مسلمانوں کو ایسے حالات کا سامنا ہے کہ ان کو چاروں طرف جنگ، قتل عام، بھوک و افلاس، مہاجرت، آوارہ وطنی، قحط اور اس طرح کے کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ مشرق وسطی کے ان ممالک میں رمضان المبارک ایسے ایام میں شروع ہورہا ہے کہ ان ملکوں کے شہریوں کو بمباری، بارود کی بو اور خونی مناظر کا سامنا ہے۔

عالمی طاقتیں مشرق وسطی کے ممالک کے بحرانوں کو حل کرنے کی بجائے جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہیں۔ جنگ زدہ مسلمانوں کی اس کیفیت کو درک کرنا آسان کام نہیں۔ ان علاقوں کے مسلمانوں کو افطار اور سحری میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کا خیال بھی ہر باشعور انسان کو پریشان کر دیتا ہے۔

مشرق وسطی کے ان ممالک میں شام کو بیرونی دہشتگردی کا سامنا ہے۔ عراق  میں بھی دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے تکفیری دہشتگرد مسلمان ممالک کےشہریوں کو خاک و خون میں تبدیل کر رہے ہیں۔

شام کے شہری گزشتہ 6 سالوں سے دہشتگردی کی اس آگ میں جل رہے ہیں۔ اسلام کے نام پر جمع ہونے والے دہشتگردوں کو رمضان المبارک سمیت اسلامی اقدار کا ذرا برابر احساس نہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں آیا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں غذائی اشیاء کی کمی اس علاقے کے باشندوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

دوسری طرف جو مسلمان مہاجرین یورپی ممالک کے مہاجر کیمپوں میں زندگی کے دشوار ایام گزار رہے ہیں ان کیلئے رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور دیگر عبادات بجا لانا ایک انتہائی سخت عمل لگ رہا ہے۔

یمن میں بھی مسلمان روزہ داروں کو متعدد مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ظالم اور وحشی سعودی عرب کی طرف سے رات دن کی بمباری اور حتی پانی کے ذخائر پر بھی ہوائی حملے اس ملک کے شہریوں کے لیے عذاب کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

خوراک، لباس اور محفوظ چھت یمنی شہریوں کے لئے ایک خواب اور حسرت میں بدل چکے ہیں۔ ہوائی حملوں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے اور یمن کے کم از کم 14 ملین شہری جنگ کی وجہ سے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

مسلمان اس سال ایسے عالم میں رمضان المبارک گزار رہے ہیں کہ اس وقت بھی اٹھارہ لاکھ سے زائد فلسطینی غزہ میں محاصرے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ غاصب اسرائیل کے محاصرے اور پابندیوں کے نتیجے میں غزہ پٹی کے باشندے انتہائی دشوار ایام گزار رہے ہیں۔

رمضان المبارک کی سحری اور افطاری کے لیے خرید وفروش ایک مشکل امر میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ آمدن کم اور مہنگائی زیادہ ہے، عام شہریوں کی قوت خرید نہ ہونے کے برابر ہے لہذا سستی اور کم مقدار میں غذا خریدنے پر مجبور ہیں، غذائی اشیاء کی کمی اور گرانی کے علاوہ صیہونی حملوں کا خطرہ بھی سر پر لٹک رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اپیلیں کر رہی ہیں کہ رمضان المبارک میں غزہ کے باشندوں پر حملے نہ کئے جائیں لیکن غاصب صیہونی حکومت اپنے غیر انسانی اقدام کو جاری رکھنے پر بضد ہے کیوںکہ اسکی حقیقی ماہیت ہی انسانیت دشمنی پر استوار ہے۔ غزہ کے مظلوم عوام کی اس حالت زار کو بیان کرنا ناممکن ہے۔  

غزہ سے اگر شام کی طرف چلیں تو صورتحال مزید گھمبیر نظر آتی ہے۔ پورا شام باہر سے آئے ہوئے نام نہاد جہادی دہشتگردوں کی بھنیٹ چڑھ چکا ہے۔ گزشتہ 6 سال سے اس ملک کے عوام کو جنگ کی بے مقصد آگ میں جھونکا گیا ہے۔ ادلب ہو یا دمشق سب کے سب دہشتگردی کی لپیٹ میں ہیں، یہاں کے مسلمان کس طرح سحری اور افطاری کریں گے اور جنگ زدہ ماحول میں کس طرح رمضان المبارک کے بابرکت لمحات سے استعفادہ کریں گے۔ شام کی مسلمان آبادیاں مساجد کو آباد کریں گی کہ یا اپنے بیوی بچوں کو داعش اور النصرۃ کے درندوں سے بچانے کے لیے محفوظ پناہ گاہوں میں لے جائیں گی۔ شام سے آوارہ وطن ہونے والے شامی شہری ھمسایہ ممالک اور یورپ کے مختلف مہاجر کیمپوں میں زندگی کے انتہائی دشوار ایام گزار رہے ہیں ان کے لیے رمضان المبارک کیسا ہوگا، ہر باشعور مسلمان کے یہ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

جاری ہے ۔۔۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری