انسان پر روزہ کیوں واجب ہوا؟ امام رضا علیہ السلام کا جواب

خبر کا کوڈ: 1421590 خدمت: اسلامی بیداری
ماه رمضان

امام رضا علیہ السلام نے ایک حدیث میں دلائل کے ساتھ روزے کے واجب ہونے کے سبب کو بیان فرمایا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق آج پاکستان میں رمضان کے بابرکت مہینے کہ پہلا جبکہ ایران میں دوسرا دن ہے، رمضان کا وہ مبارک مہینہ جس کے لئے خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے؛ "كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔"

ترجمہ: اے ایمان والو! فرض کیے گئے ہیں تم پر روزے جیسے فرض کیے گئے تھے ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ (القرآن ، البقرہ183)

اس سلسلے میں ممکن ہے کہ بہت سے لوگوں کے لئے ایک سوال پیش آئے اور وہ یہ کہ انسان پر روزہ واجب ہونے کے اسباب کیا ہیں ؟

اس سوال کا جواب پانے کے لئے ہم امام رضا علیہ السلام کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کر تے ہیں۔

امام رضا علیہ السلام نے فضل بن شاذان کے سوال کہ "مولا روزہ کا حکم کیوں دیا گیا ہے اور کیوں اسے اسلام میں واجب کیا گیا ہے"، تو امام علیہ السلام نے فرمایا؛ "اس لئے کہ بھوک اور پیاس کو پہچان لیں اور آخرت میں اپنی بے بسی، لاچاری اور ناداری کو سجمھ لیں، اس لئے کہ روزہ دار خداوند متعال کے سامنے بے بسی، ذلت و محتاجی کو سمجھتے ہوئے انکساری سیکھ سکے۔ بھوک اور پیاس کی شدت میں جو زحمت اسے ہوئی، جو صبر اس نے کیا، روزہ دار اس اجر کا مستحق ہو، اس کا ثواب حاصل کر سکے۔ اس کے علاوہ روزہ میں دیگر حکمتیں بھی ہیں جیسے شہوت کو قابو کرنا، نفس کو مہار کرنا، اس کی سرکشی پر لگام لگانا، دنیا میں پند و نصیحت کا سبب بننا، انسان کو سخت ریاضت اور مشقت کا عادی بنانا اور انہیں احکام الہی کا پابند بنانا۔ اور اس لئے کہ انسان کیلئے دنیا کی دوسری مشقتیں اور سختیاں نمونہ عمل بن سکیں اور وہ روزہ کے بہانہ بے کس و مجبور اور فقراء کی بھوک و پیاس کو محسوس کر سکے اور جان لے کہ خداوند متعال نے ان کی مال و دولت میں فقراء اور مساکین کا جو حصہ مقرر کیا ہے، اسے ادا کرے۔

متن حدیث:

"وَ فِی الْعِلَلِ وَ عُیُونِ الْأَخْبَارِ بِأَسَانِیدِهِ الْآتِیَةِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ عَنِ الرِّضَا ع قَالَ: إِنَّمَا أُمِرُوا بِالصَّوْمِ لِکَیْ یَعْرِفُوا أَلَمَ الْجُوعِ وَ الْعَطَشِ فَیَسْتَدِلُّوا عَلَى فَقْرِ الْآخِرَةِ وَ لِیَکُونَ الصَّائِمُ خَاشِعاً ذَلِیلًا مُسْتَکِیناً مَأْجُوراً مُحْتَسِباً عَارِفاً صَابِراً عَلَى مَا أَصَابَهُ مِنَ الْجُوعِ وَ الْعَطَشِ فَیَسْتَوْجِبَ الثَّوَابَ مَعَ مَا فِیهِ مِنَ الْإِمْسَاکِ عَنِ الشَّهَوَاتِ وَ لِیَکُونَ ذَلِکَ وَاعِظاً لَهُمْ فِی الْعَاجِلِ وَ رَائِضاً لَهُمْ عَلَى أَدَاءِ مَا کَلَّفَهُمْ وَ دَلِیلًا لَهُمْ فِی الْآجِلِ وَ لِیَعْرِفُوا شِدَّةَ مَبْلَغِ ذَلِکَ عَلَى أَهْلِ الْفَقْرِ وَ الْمَسْکَنَةِ فِی الدُّنْیَا فَیُؤَدُّوا إِلَیْهِمْ مَا افْتَرَضَ اللَّهُ لَهُمْ فِی أَمْوَالِهِمْ۔"

{شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ج 2، ص 247}

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری