تحریر: آر اے سید

رمضان المبارک اور تباہ حال مشرق وسطی (آخری حصہ)

خبر کا کوڈ: 1421807 خدمت: مقالات
مشرق وسطی

پاکستانی کالم نگار کا کہنا ہے کہ جہاں عظیم مشرق وسطی اور جدید مشرق وسطی منصوبوں کے خالق اپنے اہداف کی طرف بڑھ رہے ہیں وہیں آل سعود اور اس کے دیگر حواریوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ موت کا رقص انجام دے کر اپنی حقیقی ماہیت کو آشکار کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: عراق ایک اور مسلمان ملک جہاں کے شہروں پر داعش نے اپنی شیطانی خلافت کے پنجے گاڑھے اور مفتوحہ علاقوں میں موجود شیعہ، سنی، عیسائی اور ایزدیوں کی زندگی جہنم بنادی۔ اگرچہ عراقی حکومت، قبائل اور رضاکار فورسز نے ان دہشتگردوں کو ملک سے نکال باہر کرنے کا عزم بالجزم کر رکھا ہے لیکن گزشتہ چند سالوں اور موجودہ رمضان المبارک میں بھی موصل کے بے گھر مسلمان شہریوں اور اردگرد کی آبادیوں کے نہتے اور بے گناہ باشندے توپوں کے گولوں اور ٹینکوں کی چنگاڑتی آوازوں اور مارٹر گولوں کی روشنی میں سحر و افطار کریں گے۔

موصل کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کی کاروائیاں جاری ہیں لیکن تصور کریں اگر اس علاقے میں جنگ نہ ہوتی، دہشتگرد مقامی باشندوں کو غلام اور ان کی ناموس اور بہنوں بیٹیوں کو لونڈیاں بناکر انعامی منڈیوں میں فروخت نہ کرتے تو اس علاقے کے عوام نہایت اطمینان سے رمضان المبارک کی برکتوں کو سمیٹتے۔

اب آئیں آپ کو لے چلتے ہیں ایک اور ملک جہاں آل سعود اور اس کے زیر سایہ آل خلیفہ حکومت گزشتہ 6 سالوں سے ایک عوامی، جمہوری اور قومی تحریک کو بندوقوں، آنسوگیس کے گولوں اور نمائشی عدالتوں سے سرگرم افراد کو قید وبند کی سزائیں سنا کر روکنے میں کوشاں ہے۔ آل خلیفہ ایسی استبدادی اور ظالم حکومت ہے جس کے سامنے نہ مسجد کی اہمیت ہے نہ عبادت گاہوں اور نہ ہی اسلامی شعائر کی۔ وہ اپنی ڈیکٹیٹر شپ کو بچانے کے لئے ہر ہتھکنڈہ استعمال کر رہی ہے۔ اس فاسق و فاجر حکومت کے منفی اقدامات سے بحرین کی مساجد ویران، نماز جمعہ کے اجتماعات اور مذہبی عبادت ختم ہو کر رہ گئی ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ نواز اس بادشاہی ٹولے نے بحرین کے شیعہ مسلمانوں کو رمضان المبارک کی برکتوں سے محروم کرنے کے لیے اس مہینے سے چند دن پہلے بحرین کی اکثریتی آبادی کے ہر دلعزیز مذہبی رہنما آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کو اپنی فرمائشی عدالت کے ذریعے ایک بے تکے جرم میں سزا سنا دی ہے اور اب اس بزرگ عالم دین کو جبری جلاوطنی پر مجبور کر رہی ہے۔

بحرین کے عوام کے لیے یہ رمضان المبارک کس طرح پر امن، اطمینان بخش اور عبادات و مناجات کے حصول کا مہینہ بن سکتا ہے کہ ان کے دو ہر دلعزیز رہنماوں حجت الاسلام علی سلمان اور آیت اللہ شیخ عیسی قاسم جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے آل خلیفہ کے کارندوں کے رحم و کرم پر ہوں۔ بحرین میں عوامی تحریک جس طرح زور پکڑ رہی ہے رمضان المبارک کے اجتماعات اس میں مزید شدت لائیں گے۔

لیبیا ایک اور اسلامی ملک جو امریکی بربریت اور اپنوں کے روپ میں اسلام دشمن عناصر کے ہاتھوں تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ لیبیا اب ایک ملک نہیں بلکہ کئی حصوں میں بٹے ہوئے قبائلی معاشرے کی تصویر دکھا رہا ہے۔

آئے دن ایک علاقے کے قابض دوسرے علاقے کے باشندوں کو حملوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان حالات میں لیبیا میں رمضان المبارک کا چاند کس حالت میں طلوع ہوگا۔ لیبیا کی مساجد جہاں سے قرآن و مناجات کی دعائیں آتی تھیں اب وہاں پر خاموشی اور ہو کا عالم ہوگا۔

لیبیا کے باشندے امن و امان کی اس ناگفتہ بہ صورت حال میں نہ صبح صادق کے وقت مساجد کا رخ کرسکتے ہیں اور نہ نماز عشاء کے وقت اندھیری گلیوں اور تاریک مساجد میں باجماعت نماز اور تراویح کا ثواب حاصل کرسکتے ہیں۔

لیبیا کو امریکہ اور نیٹو فورسز نے تباہ کردیا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ کی باہمی چپقلش بھی شمالی افریقہ کے اس مسلمان ملک کی تباہی کا باعث ہیں۔

قصہ مختصر پورا مشرق وسطی جنگ و جدل کی لپیٹ میں ہے۔ متاثرہ ممالک میں رمضان المبارک کیسے گزرے گا، نماز و تلاوت و مناجات کیلئے کیسا ماحول میسر آئے گا۔ شب ہائے قدر میں لوگ کس طرح رات کو مساجد میں جاکر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں گے۔

عید الفطر تو ایک ماہ بعد آئے گی لیکن رمضان المبارک جس میں صدر اسلام کے کفار بھی جنگ روک دیتے تھے، آج کے داعش، النصرہ، طالبان، القاعدہ، لشکر جھنگوی، الشباب، بوکوحرام اور اسی طرح کا مائنڈ سیٹ رکھنے والے نام نہاد جہادی مسلمان آبادیوں کیلئے ایسا ماحول بننے دیں گے جہاں عام مسلمان شہری رمضان المبارک کی فضیلتوں، برکتوں، عبادتوں اور دعاؤں سے بہرہ مند ہو سکے۔

عظیم مشرق وسطی اور جدید مشرق وسطی منصوبوں کے خالق اپنے اہداف کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ آل سعود اور اس کے دیگر حواریوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ موت کا رقص انجام دے کر اپنی حقیقی ماہیت کو آشکار کر دیا ہے۔

اس سال کا رمضان المبارک ایک بار پھر عالم اسلام اور امت مسلمہ کو دعوت فکر دے رہا ہے کہ سوچھ "تمہاری تباہی کے منصوبے کہاں بن رہے ہیں اور ان منصوبوں کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے امریکی اور صیہونی سازشوں کا کون ساتھ دے رہا ہے، امت مسلمہ اب بھی نہ سنبھلی تو پھر تمہاری داستان بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔"

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری