روحانی - پیوٹن کی ٹیلیفونک گفتگو؛

ماسکو سے قریبی تعلقات تہران کی اصولی سیاست/ شام میں سہ فریقی تعاون جاری رہے گا

خبر کا کوڈ: 1421859 خدمت: ایران
حسن روحانی پوتین تلفن

روس اور ایران کے صدور نے شام سمیت خطے کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی صدر مملکت حجت الاسلام حسن روحانی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ٹیلیفونک بات چیت میں کہا کہ ایران اپنے پڑوسیوں اور روس سے تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔ ایران روس سے دو طرفہ تعلقات بڑھانے اور انہیں مستحکم کرنے کے لئے پر عزم ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہم مستقبل میں ان تعلقات کو مزید گہرا ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔

روحانی نے کہا کہ ایران اور 5+1 کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے میں جب تک فریق اپنے وعدوں پر عمل کرتا رہے گا، ایران بھی اپنے وعدوں پر اٹل اور پابند رہے گا۔

حسن روحانی نے کہا کہ ایٹمی معاہدے کے اجرا اور جوہری میدان میں روس کا تعاون قابل ستائش ہے۔ ایران رو س کے ساتھ اپنے معاہدے کو عملی بنانے کے لئے آمادہ ہے۔

روحانی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے زیر سایہ شام میں قیام امن کے لئے ترکی، روس اور ایران کے درمیان ہونے والے سہ فریقی تعاون کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی نومنتخب حکومت اور سعودی عرب خطے میں مشکلات کو ہوا دے کر انہیں اور سخت بنا رہے ہیں۔ خطے میں قیام امن اور دہشت گردی سے مقابلے کے لئے تمام ممالک کو متحد ہونا ہوگا۔

پیوٹن نے اس گفتگو میں حسن روحانی کو ایک بار پھر ایران کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ روس اسلامی جمہوریہ ایران سے اپنے تعلقات کو بڑھانے کے لئے پرعزم ہے۔ ہم تہران کی اہمیت کے قائل ہیں اور اس سے تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بارہا کہا کہ شام میں ایران اور روس کی موجودگی دمشق کی قانونی حکومت کی درخواست پر اور بین الاقوامی قوانین کے ماتحت ہے اور ہم خطے میں قیام امن کے لئے اپنی کوششوں اور باہمی تعاون کو فروغ دیتے رہیں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری