نابلس؛ غزہ کی پٹی کا قدیم ترین شہر+ ویڈیو

خبر کا کوڈ: 1422792 خدمت: دنیا
رام الله/ شیرینی/نابلس/8

فلسطین کے مغرب میں واقع نابلس شہر جو مٹھائیوں اور چینی کے شہر پر معروف ہے، میں سینکڑوں مٹھائی کے دوکانیں ہیں۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: کوئی بھی مسافر مغربی پٹی میں آتا ہے تو اسے تہذیب و ثقافت کی ایک قدیم تاریخ سے روبرو ہوتا ہے۔ یہ شہر دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے ایک دوسرے سے مربوط مختلف زمانوں کی تہذیب سے سامنا ہوتا ہے جو کنعانیوں کے ذریعہ آباد ہونے کے بعد سے ڈھائی ہزار سال قبل مسیح کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔  

نابلس شہر کی جدید تعمیر کمیٹی کے رکن نصیر عرفات : بنیادی طور پر نابلس ایک کنعانی شہر تھا جس کی قدامت تقریبا پانچ ہزار سال پر مشتمل ہے۔ لیکن آج کے شہر کا سب سے قدیمی علاقہ شکیم میں موجود ہے جسے دو ہزار سال پہلے رومیوں نے آباد کیا تھا اور اس کا نام نیوبلس یعنی نیا شہر رکھا تھا جو گزرتے زمانہ کے ساتھ بدل کر نابلس ہو گیا ہے۔  

حقیقت میں ہم آج جو بھی عمارتیں دیکھتے ہیں وہ سب نہیں تو ان میں سے اکثر عثمانی دور حکومت میں تعمیر ہوئی ہیں۔  

اس شہر میں 93 تاریخی عمارتی موجود ہیں جو قابل استفادہ ہیں جیسے چکی، صابن کارخانہ ، مٹھائی و پکوان کی دکانیں، سبیلیں اور مساجد جو سب کی سب قدیمی نابلس میں واقع ہیں وہ جگہ جہاں نئے نابلس کو آباد کرنے کی جڑِیں موجود ہے۔  

قدیم نابلس میں موجود تاریخی عمارتوں کی تعداد تقریبا 93 ہے جو سب کی سب تاریخی اور تمدنی اہمیت کی حامل ہیں اور اس فہرست میں شامل ہیں اس کے علاوہ قدیم زمانہ میں تعمیر شدہ مکانوں کو بھی اس فہرست میں شمار کیا جا سکتا ہے جو رومی بیزانس اور صلیبیوں اور دیگر بادشاہوں کے زمانے میں بنائی گئی ہیں۔  

لیکن بظاہر قدیم شہر میں پائی جانے والی جو  93 عمارتیں ہیں وہ ایک مخصوص دائرہ ہے۔  

نابلس کی اس تاریخی اہمیت نے اس شہر کو فلسطین، شام، اردن نیز دیگر ممالک کے تاجر اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔  

قدیم  نابلس کے باشندے محمد حلاوہ : کئی زمانہ جیسے رومی بیزانس اور اسلامی حکومت کا زمانہ گزر گیا ہے وہ زمانہ کہ جب سر زمین عرب فتح کر لی گئی لیکن نابلس ہر دور میں ایک مقام و اہمیت کا حامل رہا۔  

عثمانی دور حکومت میں یہ تعلقات تجارت اور قیادت کی سطح پر بہت نمایاں رہے ہیں، عمارتوں، مساجد، خصوصا الباب العالی، برج الساعۃ جسے عثمانی ترکوں نے اس شہر کے لوگوں کو ہدیہ کر دیا تھا جسے خصوصی توجہ دی گئی۔ اور پیامبر اکرم کا وہ بال جسے آج بھی اس شہر کی تاریخی مسجد میں حفاظت کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ 

گزری تہذیبیں اور نئے جنم لینے والی تہذیب موجود ہے تاکہ ایک نمونہ تخلیق پا سکے جس کی قدامت 3 ہزار سال سے زیادہ ہے ۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری