قطر کے ساتھ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت کی بڑھتی کشیدگی؛

کیا قطر خلیج تعاون کونسل کو خیرباد کہدے گا یا نکالا جائے گا؟

خبر کا کوڈ: 1422881 خدمت: دنیا
کشورهای شورای همکاری خلیج فارس

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بڑھتی قطر کی کشیدگی اور سعودی روزناموں میں قطر کے خلاف چھپے مقالوں کے ڈھیر سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا قطر خلیج تعاون کونسل کہےگا یا اسے نکالا جائے گا؟

خبر رساں ادارہ تسنیم: قطر کی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور قطر کے خلاف سعودی اخباروں میں مقالات کی بھرمار سے یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا یہ کشیدگی خلیج تعاون کونسل سے قطر کے اخراج یا نکل جانے پر ہی ختم ہوگی؟

قطر نے سکون و اطمینان کو ترجیح دی

سمجھا جا رہا تھا کہ قطر اپنے خلاف سعودی میڈیا کے ذریعے ہونے والے حملوں کے جواب میں ان ممالک کے سفیروں کو نکال باہر کرے گا لیکن چند قطری سیاستدانوں کے مطالبے کے بعد بھی امیر قطر نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا۔

خلیج تعاون کونسل اور قطر کا اپنا مختلف راگ

امیر قطر سے منسوب بیان در حقیقت خلیج تعاون کونسل میں قطر کے اپنے الگ ہی راگ کے مترادف ہے۔ کیونکہ انہوں نے ایران مخالف اقدام کی شدید مذمت کی تھی اور ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت جلد ہی ختم ہو جائے گی۔

قطر کے وزیر خارجہ نے ان بیانات کی تردید کی تھی اور ان ممالک کے سفرا کی طلبی پر کہا تھا کہ ان کی باتوں کو غلط سمجھا گیا ہے اور ان کے سوشل میڈیا اکاونٹ کو ہیک کیا گیا تھا۔

شیخ تمیم بن حمد آل ثانی جانتے ہیں کہ کس چیز نے منامہ، ریاض، دبئی اور قاہرہ میں ان کے دشمنوں کے کلیجے میں آگ لگا دی ہے۔

اسی لئے انہوں نے رمضان کے مبارک مہینے کی آمد اور حسن روحانی کی صدارتی انتخاب میں جیت کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے تاکید کی کہ ایران اور قطر کے تعلقات تاریخی اور بہت گہرے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں یہ رابطہ مزید گہرا ہوگا اور اس راہ میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔

روحانی اور امیر قطر کی ٹیلیفونک گفتگو پر سعودی میڈیا نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور امیر قطر کے خلاف بیانات اور مقالات کی بھرمار کرتے ہوئے قطر اور سعودی عرب کے درمیان سالہا سال کے اختلافات کو بھی کھودنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ قطر کے شاہی خاندان کو وہابیت سے خارج کرتے ہوئے اسے محمد بن عبد الوہاب کے خاندان سے خارج کرنے کی سند بھی جاری کر دی گئی جس پر سعودی مفتی اعظم عبد العزیز آل شیخ کے ساتھ ساتھ 200 افراد کے دستخط بھی موجود ہیں۔

بہر حال اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرائے اور 2014 کی طرح ایک بار پھر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین اپنے اپنے سفیروں کو دوحہ سے واپس بلا لیں۔

قطر کی دلیرانہ اور تحریک آمیز سیاست

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ جس وقت سعودی عرب ٹرمپ کا خیر مقدم کرتے ہوئے امریکہ کے زیر سایہ ایران کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف ایک سنی مذہب اتحاد کی تشکیل میں مصروف تھا، قطر نے سعوی عرب کی تمام ریڈ لائنز کو نظر انداز کرتے ہوئے ایران سے روابط بڑھائے۔

ایک سعودی روزنامہ کے مطابق ایسے حالات میں روحانی سے رابطہ کرنا قطر کی متحرک کردینے والی بولڈ سیاست کو بیان کرتا ہے۔

بعید نہیں کہ اگر اسی طرح ان ممالک کے درمیان کشیدگی موجود رہی تو وہابیت سے نکالے جانے والے قطر کو خلیج تعاون کونسل سے بھی بے دخل کر دیا جائے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری