خلیج تعاون کونسل میں پھوٹ پڑنے کا خدشہ

خبر کا کوڈ: 1422887 خدمت: دنیا
شورای همکاری خلیج فارس

اردن کے مطابق ریاض کے اختلافات اور انتشار پھیلانے والے اجلاس کے بعد امیر قطر کا اردن کے بادشاہ سے رابطہ کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دوحہ اس اجلاس کی بھینٹ چڑھنے والے اردن، مصر اور قطر کے درمیان روابط کو مستحکم کرنے کے لئے پر عزم ہے۔

خبر رسان ادارے تسنیم کے مطابق، اردن کے مطابق ریاض کے تفرقہ انگیز اجلاس کے بعد اردن کے بادشاہ سے امیر قطر کا رابطہ کرنا اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دوحہ ریاض اجلاس کی قربانی کا بکرا بننے والے مصر، اردن اور قطر میں تعلقات کو معمول پر لانے کے درپے ہے۔

کون ریاض سے خالی ہاتھ واپس آئے؟

ریاض اجلاس سے خالی ہاتھ واپس آنے کے بعد مصر اور اردن اس اجلاس کی بھینٹ چڑھنے والے قطر سے ملحق ہو گئے ہیں جسے اس اجلاس میں حاشیہ پر دھکیل دیا گیا تھا۔

اس دوران امیر قطر اور اردن کے بادشاہ کے درمیان ہونے والی بے سابقہ ٹیلیفونک گفتگو اور عرب سربراہوں کے اجلاس میں دونوں کی ملاقات یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ ان ممالک کے تعلقات سردمہری کا شکار ہوگئے ہیں۔

سعودی عرب اور اردن کے کشیدہ حالات

سعودی عرب اور اردن کے باہمی تعلقات کمزور ہو رہے ہیں ایسے میں اردن کے بعض سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ قطر کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بگڑتے تعلقات کے دوران اردن، قطر سے اپنے تعلقات خوشگوار رکھے گا۔

دوحہ اور تہران کی بڑھتی نزدیکیوں کے دوران قطر اور اردن کی بڑھتی قربتیں

ایران اور قطر کے بڑھتے تعلقات کے درمیان ہی قطر اور اردن کے تعلقات اچھے ہو رہے ہیں اور اردن اس موضوع کو اچھی طرح جانتا ہے۔

اردن نے قطر کے ساتھ سعودی عرب اور عرب امارات کے بگڑتے روابط پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ وہ بنا کسی صف بندی میں شرکت کرنے کے اس کشمکش سے باہر رہنا چاہتا ہے جبکہ بعض مغربی رپورٹس اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ خلیج تعاون کونسل میں شگاف پڑ گیا ہے۔

قطر اور عمان کا خلیج تعاون کونسل سے نکلنے کا امکان

مغربی رپورٹس میں قطر کے ساتھ بڑھتے سعوی عرب اور عرب امارات کے اختلافات کے پیش نظر کہا گیا ہے کہ اس بحران کے سبب عمان اور قطر اس کونسل سے نکل کر اس کی شکل بگاڑ سکتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری