تحریر: ڈاکٹر حسین محی الدین القادری

داعش؛ ابتداء اور نظریاتی بنیادیں (پہلا حصہ)

خبر کا کوڈ: 1424527 خدمت: مقالات
داعش

شام اور عراق میں داعش ایک عسکریت پسند نام نہاد جہادی گروپ ہے جو خلافت کو دوبارہ بحال کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور فی الحال عراق اور شام کی سر زمین پر ظالمانہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: داعش کے ابتداء کے بارے میں اردنی عسکریت پسند ابو مصعب الزرقاوی کی طرز زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ الزرقاوی مختلف جرائم میں گرفتار ہوا اور 1999 میں رہا ہونے کے بعد عسکریت پسند بن گیا اور افغانستان چلا گیا جہاں اس کی ملاقات القائدہ رہنما سے ہوئی، افغابستان پر امریکی حملے کے بعد زرقاوی فرار ہو کر عراق آگیا اور اس نے عراق میں مسلح کارروائیاں شروع کر دیں، کئی لوگوں کو بے رحمی سے قتل کر دیا اور اس کے گروپ نے عراق میں کئی خودکش دھماکے بھی کئے۔ اس طرح یہ ایک بے رحم شخص کے طور پر پہنچانا جانے لگا۔

زرقاوی گروپ کے مقاصد میں امریکہ کی سربراہی برسرپیکار اتحادی فوج کو عراق سے نکالنا اور پھر عراق میں فرقہ وارانہ جنگ کا آغاز کرنا اور افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خودساختہ اسلامک اسٹیٹ کا قیام تھا۔

ستمبر 2004 میں زرقاوی طویل مذاکرات کے بعد اسامہ بن لادن کی بیعت کر کے القائدہ نیٹ ورک کا حصہ بن گیا، اس کے گروپ نے نام تبدیل کر کے "القائدہ ان عراق" رکھ لیا تاہم دونوں گروپوں کے درمیان تعلق کشیدہ رہا کیوںکہ القائدہ بھی زرقاوی کو بہت زیادہ متشدد اور انتہا پسند سمجھتی تھی۔ القائدہ عراق میں اس گروپ کی طرف سے مظالم پر خوش نہ تھی۔ اس حوالے سے 2005 میں القائدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے زرقاوی کے نام خط میں ناراضگی کا اظہار کیا۔

جون 2006 میں زرقاوی مارا گیا۔ اس کے بعد مصری بم ساز ابو ایوب المصری "القائدہ ان عراق" کا نیا امیر بنا۔ 2006 میں ہی المصری نے گروپ کو عراقی ظاہر کرنے کے لیے اس کا نام تبدیل کر کے"اسلامک اسٹیٹ ان عراق" رکھ دیا اور عراق کے باسی ابو عمرالبغدادی کو اس کا امیر مقرر کر دیا۔

اسلامک اسٹیٹ ان عراق نے تیزی سے خود کو وسعت دی، تاوان اور تیل کی اسمگلنگ سے سالانہ لاکھوں ڈالر اکٹھے کئے۔ دولت کی ریل پیل اور روزگار فراہم کرنے کے باوجود بھی یہ گروپ عراقی عوام کی حمایت کرنے میں ناکام رہا کیوںکہ غیر ملکی جنگجووں کی شرکت اور پر تشدد نظریات کے باعث عراقی عوام اس گروپ سے دور رہے۔

اس پر تشدد ماحول میں عراق کے صوبہ الانبار میں "تحریک سہاوا" نے بھی پرزے نکالے چونکہ اسلامک اسٹیٹ تشدد سے کام لے رہی تھی جس کے باعث تحریک سہاوا مغربی اتحادی فوج کیساتھ مل کر اسلامک اسٹیٹ ان عراق کیخلاف لڑی۔

اسلامک اسٹیٹ ظالمانہ اور پرتشدد حربوں کے باعث تنہا ہوگئی اور اسے مختلف گروپوں کی طرف سے شدید مزاحمت اور ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران تنظیم کے بہت سارے غیر ملکی جنگجو بھی مارے گئے اور اس کا اثر ماند پڑ گیا جس کے نتیجے میں 2007 سے 2009 کے عرصے میں عراق میں فرقہ وارانہ تشدد کافی حد تک کم ہو گیا۔

دونوں المصری اور البغدادی 2010 میں مارے گئے۔ 2009 میں امریکی انخلا کے آغاز سے سہاوا تحریک کمزور ہوئی اور اسلامک اسٹیٹ کے جنگجو موصل منتقل ہوگئے جہاں گروپ کو از سرنو منظم کیا گیا۔

2010 کے وسط میں اسلامک اسٹیٹ عراقی حکومت سے زیادہ تنخواہیں دینے کی پوزیشن میں تھی اور اس نےتحریک سہاوا کے ارکان کو بھی بھرتی کرنا شروع کردیا۔ اس دوران گروپ نے اسلامک اسٹیٹ منصوبے کو جائز ثابت کرنے کے لیے ایک بھر پور پروپیگنڈا مہم کا آغاز کیا۔

    تازہ ترین خبریں