خلیجی ممالک کے درمیان تناو میں اضافہ؛ امیر قطر آج کویت جائیں گے

خبر کا کوڈ: 1424564 خدمت: دنیا
امیر قطر

خلیجی ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی شدت اختیار کرنے کے بعد جہاں اردن کے شاہ جدہ پہنچ گئے ہیں وہیں امیرقطر بھی خصوصی دورے پر آج کویت جائیں گے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق  خلیجی ممالک میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے جس  پر خلیجی سطح پر دوحہ حکومت کو سخت دباؤ کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق امیر قطر کا اچانک دورہ  کویت کوئی معمولی خبر نہیں جو سامنے آئی ہے، دورہ کا مقصد خلیجی ملکوں کے ساتھ پائی جانے والی کشیدہ صورتحال کو ختم کرنا اور کویت سے ثالثی کیلئے درخواست کرنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امیر قطر دورہ کویت کے بعد سلطنت عمان کا بھی دورہ کریں گے۔ کویتی حکومت کی طرف سے قطر اور دوسرے خلیجی ملکوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی دور کرنے کے لیے مصالحتی کردار ادا کرنے کی پیش کش کی گئی تھی اور اس دورے کا مقصد بھی امیر قطر اور کویتی قیادت کے درمیان ہونے والی بات چیت میں خلیجی ملکوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی سب سے اہم موضوع ہوگا جبکہ گذشتہ ہفتے کویت کے وزیر خارجہ نے بھی دوحہ کا دورہ کیا تھا جس میں قطر اور دوسرے پڑوسی عرب ملکوں کے ساتھ پائی جانے والی کشیدگی بھی زیربحث نظر  آئی۔

واضح رہے کہ ٹرمپ کی سربراہی میں ہونے والے ریاض اجلاس کے بعد سعودی عرب اور اردن کے باہمی تعلقات کمزور ہو رہے ہیں ایسے میں اردن کے بعض سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ قطر کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بگڑتے تعلقات کے دوران اردن، قطر سے اپنے تعلقات خوشگوار رکھے گا۔

گذشتہ روز قطر کے ایک ذمہ دار سفارتی ذریعے نے خبر دی تھی کہ امیر قطر کویت جانے اور خلیجی ملکوں کے ساتھ پائے جانے والے اختلافات کو دور کرنے کے لیے بات چیت پر تیار ہیں۔

خیال رہے کہ قطر اور دوسرے ملکوں کے درمیان کویت کی جانب سے ثالثی کا کردا ادا کرنے کی پیشکش پہلی بار سامنے نہیں آئی۔ سنہ 2014ء میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ دوحہ کی کشیدگی کو کویت ہی نے ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

قطر اور دوسرے عرب ملکوں کے درمیان طے پائے جانے والے معاہدے میں خلیجی ممالک کے اندرونی امور میں عدم داخلت، قطری ذرائع ابلاغ کے منفی پروپیگنڈے کا خاتمہ، مصر کے خلاف اشتعال انگیزی بندکرنا، کسی دوسرے خلیجی ملک کے باشندے کو قطری شہریت نہ دینا، اخوان المسلمون کی معاونت روکنا، اخوان اور خلیج تعاون کونسل کے مخالف عناصر کو بے دخل کرنا اور مذہبی مبلغین کو مساجد کے منبر و محروب اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے خلیجی ممالک کے خلاف تقاریر سے روکنا جیسی شرائط شامل تھیں۔

تاہم خلیجی ممالک کا کہنا ہے کہ قطر نے مفاہمتی معاہدے کی شرائط پرعمل درآمد نہیں کیا جس کے نتیجے میں آج ایک بار پھر قطر اور دوسرے خلیجی ملکوں میں نیا بحران پیدا ہوا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری