یمن مر رہا ہے، دنیا دیکھ رہی ہے؛ اقوام متحدہ

خبر کا کوڈ: 1424682 خدمت: دنیا
ستیفن أوبراین

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن مکمل طور تباہ ہو رہا ہے، یمنی عوام کو جنگ، قحط، بھوک اور ہیضے جیسی آفتوں کا سامنا ہے جبکہ دنیا یمن کو مرتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق اقوام متحدہ کے سربراہ برائے امداد سٹیفن او برائن نے سکیورٹی کونسل میں خطاب کے دوران کہ وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے خوراک کے بحران کو ختم کیا جائے اور یمن کو واپس بقا کے راستے پر لایا جائے۔

انہوں نے  یمن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بحران آ نہیں رہا اور نہ ہی بحران کا خطرہ منڈلا رہا ہے بلکہ بحران تو ہمارے ہوتے ہوئے موجود ہے۔ یمن کی عوام کو محرومی، وبا اور موت کا سامنا ہے جبکہ دنیا خاموش تماشائی بنی دیکھ رہی ہے۔

سعودی عرب کی مذمت کرتے ہوئے سٹیفن او برائن نے کہا کہ غریب عرب ملک کا بحران مکمل سماجی، معاشی اور ادارتی تباہی کی جانب جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے مارچ 2015 میں یمن کے خلاف فوجی کارروائی کا آعاز کیا تھا جس میں اب تک آٹھ ہزار بےگناہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے باعث ایک کروڑ 70 لاکھ افراد کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے جبکہ تقریباً 70 لاکھ افراد قحط کے دہانی پر کھڑے ہیں۔

جبکہ رواں سال اپریل سے اب تک ہیضے کے باعث 500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 55 ہزار یمنی بیمار ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 55 ہزار بیمار افراد میں سے ایک تہائی بچے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کے مطابق مزید ڈیڑھ لاکھ افراد اگلے چھ ماہ میں ہیضے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سٹیفن او برائن نے سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

    تازہ ترین خبریں