تسنیم کی تجزیاتی رپورٹ:

کابل دھماکوں کا ذمہ دار کون؟ داعش یا افغان حکومت؟؟

خبر کا کوڈ: 1427426 خدمت: دنیا
افغانستان

افغانستان میں کل ہونے والے 3 دهماکے، جس کی وجه سے کم از کم 20 لوگ زندگی کی بازی ہار گئے، کا اصل ذمہ دار داعش ہے یا افغان حکومت؟؟

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق حال ہی میں کابل میں افغانستانی سینیٹ کے معاون کے فرزند محمد علم ایزد یار کے تشییع جنازہ کو تین خود کش حملوں کا نشانہ بنایا گیا ۔

غیر رسمی ذرائع کے مطابق اس حادثہ میں اب تک 20سے زائد لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں ۔

محمد علم ایزدیار کو گذشتہ روز صدر مملکت کے دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے پولیس کے ہاتھوں قتل کردیا گیا تھا اور یہی موضوع اعتراض کرنے والوں کے سڑکوں پر رہنے اور ان کے قصاص کا مطالبہ کرنے کا سبب بنا۔

شاید اگلے کچھ گھنٹوں میں داعش جیسے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے دہشت گرد گروہ کے غیررسمی ویب سائٹ اعماق میں بیان آئے اور وہ ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلے اور اس حادثہ کے ذمہ دار لوگ اطمینان کی سانس لیتے ہوئے اپنے مطلوبہ ہدف تک پہونچنے سے راضی ہوں۔  

لیکن افغانستانی مسائل سے آگاہ اور تحقیق پسند افراد اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس طرح کے دھماکے داعش کا کام نہیں ہیں لیکن امن پسند مظاہرں کا مخالف میڈیا ان مظاہروں کو داعش سے نسبت دینے سے باز نہیں آیئں گے۔

ان دھماکوں کی نوعیت، دھماکے کا وقت اور حملہ کا ہدف دہمزنگ کے دلخراش حادثہ کی یاد تازہ کرتا ہے جس میں 80 مظلوم افغانستانی لوگوں کی جان گئی تھی۔

کابل میں جنبش روشنائی نام سے وسیع پیمانہ پر احتجاج اور مظاہرے، نیز افغانی صدر مملکت کے دفتر تک رسائی کےاور مظاہرین کے اپنے اہداف میں کامیابی کے اور مظاہرین سے حکومت افغانستان کا خوف اس بات کا سبب بنا کہ پر امن مظاہرین اور خصوصا ہزارہ کمیونیٹی کو یکبارگی  وحشت ناک حملہ کا سامنا کرتے ہوئے خاک و خون میں غلطاں ہونا پڑا جس میں اس ملک کے 80 سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اور شاید اس حملہ کا خوف ہی تھآ کہ لوگ اپنی زندگی اور جان کے خوف سے اپنے حقوق سے دست بردار ہو گئے اور یہ مظاہرہ دم توڑ گیا۔

حالانکہ ان حموں کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی تھی لیکن تمام شواہد اور ثبوت اس بات کی غمازی کر رہے تھَے کہ یہ حملے حکومت وقت کی سازش کے تحت ہوئے۔

اب بھی حالات یہی بتا رہے ہیں کہ اس حملہ کے ماسٹر مائنڈ حکومتی اہلکار خصوصا اشرف غنی کے معتمد اور نزدیکی افراد ہو سکتے ہیں۔

عبد اللہ عبد اللی، امر اللہ صالح صلاح الدین ربانی اور احمد ضیاء مسعود جیسے تاجک رہنماوں اور اشرف غنی کے درمیان بڑھتے اختلاف اور ان رہنماوں کا آج کے پروگرام میں حضر ہونا اس بات کو تقویت پہنچاتا ہے کہ اشرف غنی کے ہمنوا ان رہنماوں کی عداوت میں کسی ایسے اقدام کو انجام دیں اور ان کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیں ۔

ان حملوں میں امر اللہ صالح کے  زخمی ہونے کا احتمال ہے جو اشرف غنی کے لئے درد سر بن سکتا ہے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کابل مظاہرہ کے پس پشت کام کرنے والے افراد کو ڈرایا جا سکے اور یہ پیغام دیا جا سکے کہ حکومت پر دباو بنانے کے لئے اگر یہ احتجاجی مظاہرے جاری رہے تو مظاہرین کی جان بھی جا سکتی ہے۔

اب صرف انتظار کیا جا سکتا ہے کہ دیکھیں افغانستان کی مختلف جماعتیں اس سلسلہ میں کیا اقدام کرتی ہیں۔ 

کیا اس بار تاجیک اس احتجاج کو چھوڑ کر اپنے گھروں کو پلٹ جائیں گے یا یہ حادثہ انہیں اشرف غنی کی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے اور عزم و حوصلہ دے گا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری