افغان حکومت کیجانب سے لگائے تمام الزامات مسترد؛ کابل شواہد فراہم کرے: سرتاج عزیز

خبر کا کوڈ: 1427583 خدمت: پاکستان
سرتاج عزیز

پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز  نے کہا ہے کہ رواں ہفتے کابل میں ہونے والے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرنے کی بجائے افغانستان حکومت واقعہ کے شواہد فراہم کرے ہم کارروائی کریں گے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق افغان انٹیلی جنس ایجنسی (این ڈی ایس) اور بعض حلقوں نے رواں ہفتے کابل میں ہونے والے دھماکے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج کے انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جبکہ پاکستان ان دعوؤں کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔

پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے افغانستان پر زور دیا کہ افغان انٹیلی جنس  اسلام آباد کوشواہد فراہم کرے تاکہ ان کیخلاف کارروائی کی جاسکیں۔

گزشتہ روز پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے امریکی جریدے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان نے پہلے ہی کابل میں ہونے والے سفاکانہ حملے پر افسوس کا اظہار کیا اور اس کی مذمت کی ہے جس میں بہت ساری قیمتی جانیں ضائع ہوئیں بہت لوگ زخمی ہوئے اور اس میں پاکستان کے سفارت خانے کے دو مکانات کو بہت شدید نقصان پہنچا۔ اس میں ہمارا بنیادی موقف یہ ہے کہ افغان حکام اس واقعہ کے بارے میں کوئی بھی شواہد ہیں تو ان سے پاکستان کو آگاہ کریں تک ہم ضروری اقدامات کر سکیں۔"

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے آپریشن کی وجہ سے دہشت گرد گروپوں کے نیٹ ورک کو تباہ کر دیا گیا،" ہم کافی دفعہ اس کی وضاحت کر چکے ہیں کہ پاکستان نے بڑی محنت کے بعد آپریشن ضرب عضب کے ذریعے قبائلی علاقوں میں جتنے دہشت گرد نیٹ ورک تھے ان کو تباہ کر دیا ہے اور جو لوگ ملک کےدوسرے حصوں میں منتقل ہو گئے تھے آپریشن رد الفساد کے ذریعے ان کا صفایا کیا گیا ہے۔"

سرتاج عزیز نے مزید کہا کہ اس کے باوجود پاکستان میں موجود افغان مہاجرین میں مبینہ طور پر ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات کیخلاف ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے کابل کے ایک وسطی علاقے وزیر اکبر خان میں بدھ کو ہونے والے ہولناک بم دھماکے میں کم ازکم 90 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد افغان حکومت نے پاکستان پر بےبنیاد الزام دھر دیا ہے جس کو پاکستان یکسر مسترد کر چکا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری