لندن حملے کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، برطانوی پولیس

خبر کا کوڈ: 1428521 خدمت: پاکستان
لندن حملہ 5

برطانوی پولیس کا بیان ہے کہ 27 سالہ خرم آن لائن ویڈیوز دیکھ کر انتہا پسند بنا، اُس کے حملے کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق پاکستان، جو خود دہشتگردی کی جنگ لڑ رہا ہے، پر لندن حملے سے تعلق کی تمام افواہیں اس وقت دم توڑ گئیں جب برطانوی پولیس نے واضح کر دیا کہ لندن حملے کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔

برطانوی پولیس کا بیان ہے کہ دہشتگرد خرم آن لائن ویڈیوز دیکھ کر انتہا پسند بنا، اُس کے حملے کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خیال رہے کہ لندن برج کے دوحملہ آور پاکستانی نژاد برطانوی خرم شہزاد بٹ اور مراکش نژاد برطانوی راشد رضوان تھے۔

لندن برج کےحملہ آورخرم بٹ کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ خرم کا حلیہ ایسا تھا کہ پاکستانی کمیونٹی کے لوگ اُس سے کتراتے تھے۔

مرنےو الوں کو خراج پیش کرنے کے لیے لندن میں تقریب کا انعقاد ہوا جس میں مئیر لندن صادق خان نے بھی شرکت کی تھی۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ لندن اس بزدلانہ حملے کے خلاف متحد ہے۔

یاد رہے کہ ہفتہ کو دیر گئے لندن برج پر مشتبہ حملہ آوروں نے ایک تیز رفتار وین لوگوں پر چڑھا دی تھی جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

بعد ازاں حملہ آور بورو مارکیٹ پہنچے جہاں انھوں نے چاقو سے حملہ کر کے مختلف لوگوں کو زخمی کر دیا تھا۔

اس دہشتگرد کارروائی میں 6 بےگناہ شہری جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ 30 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری