پیرس معاہدے کے بعد؛

امریکہ کی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سے بے دخلی متوقع

خبر کا کوڈ: 1428624 خدمت: دنیا
نیکی هالی

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نے خبر دی ہے کہ امریکہ اس عالمی انسانی حقوق تنظیم کے اسرائیل مخالف موقف کے سبب اس تنظیم کو خیرباد کہہ سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نیکی ہیلی نے کہا ہے کہ امریکہ اس عالمی تنظیم سے بے دخل ہونے کے بارے میں جینیوا میں جاری اجلاس کے بعد غور کرے گا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیرس کے موسمیاتی معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے جس پر عالمی رہنماوں نے واشنگٹن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق اس عالمی تنظیم کا اسرائیل کے مظالم پر احتجاج کرنا امریکہ کی جانب سے اس اقدام کا سبب بنا ہے۔

ہیلی نے واشنگٹن پوسٹ میں لکھا تھا کہ وہ انسانی حقوق کمیشن سے مطالبہ کرتی ہے کہ اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنانا بند کردے۔

اس سے پہلے بھی جارج ڈبلیو بش کے دور حکومت میں امریکہ تین سال کے لئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سے بے دخل رہ چکا ہے۔

باراک اوبامہ کے دور حکومت میں 2009 میں امریکہ ایک بار پھر اس کمیشن کا حصہ بنا۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کا اس تنظیم کو خیرباد کہنا منفی اثرات کا باعث بنے گا کیوںکہ ممکن ہے کہ امریکہ کے نکل جانے کے بعد یہ تنظیم اسرائیل کو مزید تنقید کا نشانہ بنائے۔

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کمیشن دنیا بھر کے انسانی حقوق پائمال کرنے والے ممالک پر تنقید کرتے ہوئے ان کے خلاف تحقیقات کا حکم جاری کرسکتا ہے۔ یہ ادارہ بین الاقوامی سیاست اور قیام امن میں موثر کردار نبھاتا ہے۔

اسی بنیاد پر اسرائیل اور مقبوضہ فلسطین انسانی حقوق کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور امریکہ اس کے 47 ارکان کے درمیان اسرائیل کا اصل حامی ہونے کی حیثیت سے تنہا غاصب صیہونیوں کا دفاع کرتا ہے اور کئی بار اس کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو ویٹو بھی کر چکا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری