"غیاثیہ خرگرد" مدرسہ اور "ملک زوزن" مسجد؛ مشرقی ایران کی قدیم یادگاریں

خبر کا کوڈ: 1428996 خدمت: سیاحت
خواف

خواف شھر میں واقع غیاثیہ خرگرد مدرسہ اور ملک زوزن مسجد ہر سال سیاحوں کو اپنی طرف جذب کرتے ہیں۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق خواف شہر مشھد سے 238 کلومیٹر کے فاصلے پر ایران اور افغانستان بارڈر کے نزدیک واقع ہے۔  

یہاں کی آب وھوا گرم اور خشک ہے، یہاں کے اکثر لوگوں کا پیشہ کھیتی باڑی اور مال مویشی پالنا ہے۔   

اطراف میں پائی جانے والی نہروں کی وجہ سے شھر خواف کو روی یا رود بھی کہا جاتا ہے۔

خواف زمانہ اسلام میں ایک علمی مرکز تھا اور ہرات، قہستان اور نیشاپور سے منسلک شاھراہ پر واقع ہونے کی وجہ سے اس کا شمار تجارتی مراکز میں بھی ہوتا تھا۔

حالیہ صدیوں کے دوران خواف اپنی تاریخی اہمیت کھونے لگا تھا لیکن پہلوی دور حکومت میں سید حسن مدرس کی اس علاقے میں جلا وطنی اس کی کھوئی اہمیت کو واپس لانے کا سبب بنی۔

سید حسن مدرس ایک معروف عالم دین اور رضاخان پہلوی کے سیاسی حریف تھے جنہیں 1307 ہجری شمسی (1928ء) میں پہلوی حکومت نے جلا وطن کر کے خواف شہر بھیجا تھا۔

خراسان میں بہت سے اہم آثار موجود ہیں جن میں سے بعض کے بارے میں قارئین کو آگاہ کیا جائے گا۔

شہرخواف کی چکیاں

خواف ایک ایساعلاقہ ہے جہاں شمال، جنوب اور مشرق یعنی تینوں سمت سے شدید ہوائیں چلتی ہیں۔

گزشتہ زمانے میں خواف شہر میں کچھ ہوا سے چلنے والی چکیاں بنائی گئیں تاکہ ان ہواؤں سے استفادہ کیاجا سکے اگرچہ ان چکیوں کا کوئی خاص فائدہ نہیں لیکن ان کی موجودگی قدیم زمانے کی یاد دلاتی ہے۔

ملک زوزن مسجد

  یہ مسجد شہر سے باہر جنگل میں واقع ہے جو پہلے زوزن شہر کا حصہ تھا لیکن اب اس شہر کا کوئی نشان باقی نہیں رہا ہے۔  

اس مسجد کی تعمیر 615 اور 616 ہجری قمری میں ہوئی تھی اور اب یہ عمارت نصف ویرانے کی شکل اختیار کر گئی ہے مگر اس کی خوبصورتی اور زیبائی خاص اہمیت کی حامل ہے۔

ملک زوزن مسجد میں دو ایوان ہیں جن میں ایک کا نام "ایوان قبلہ" ہے جس کی اونچائی 30 میٹر ہے۔  

آثار قدیمہ کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسجد ایک دوسری عظیم ویران شدہ مسجد کی جگہ پر بنائی گئی ہے جو زمانہ سلجوقی سے تعلق رکھتی ہے جس کی فقط ایک خوبصورت محراب باقی رہ گئی ہے۔

البتہ سلجوقی مسجد سے پہلے بھی اسی جگہ پر دو مسجدیں اور بنائی گئیں تھیں جن کی بنیاد کے آثار زمین کے چار میٹر نیچے موجود ہیں۔

ملک زوزن مسجد ہمیشہ ناقص ہی رہی اور کبھی مکمل نہ ہوسکی۔

غیاثیہ خرگرد مدرسہ

خرگرد خواف شہر سے 5 کلومیٹر دور خراسان کا ایک قدیمی شہر تھا جو اب ایک چھوٹے سے  دیہات کی شکل میں باقی رہ گیا ہے۔

اس علاقہ میں دو بڑے مدرسے بھی ہیں جو اسلمی کے زمانے میں خرگرد شہر کے علمی معیار اور عظمت و جلالت کو ثابت کرتے ہیں۔

ان میں سے ایک کا نام نظامیہ خرگرد ہے جو اسلامی انقلاب کے بعد ویران ہوگیا لیکن غیاثیہ نامی مدرسہ قائم و آباد رہا۔

مدرسہ اور مسجد پر مشتمل اس مدرسے کے دو حصے ہیں جس کو خوبصورت ٹائلوں سے مزین کیا گیا ہے اس مدرسے میں اس کے علاوہ  کئی مطالعہ ہال بھی ہیں۔

غیاثیہ مدرسہ پیر احمد کی کوششوں کا نتیجہ ہے جسے دو بھائیوں قوام الدین اور غیاث الدین شیرازی نے تعمیر کیا تھا۔  

قوام الدین مدرسہ کی تکمیل سے پہلے ہی دنیا سے چل بسا اور باقی کام کو ان کے بھائی نے 848 ہجری قمری میں مکمل کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پیر احمد کا لقب بھی غیاث الدین تھا اسی بنا پر اس مدرسے کا نام، بانی اور معمار دونوں کی یاد تازہ کرتی ہے۔

سنگان کی ویرانیاں

سنگان، خواف شہر سے دور مشہد سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

یہ علاقہ اسلام کی ابتدائی صدی میں ایک آباد شہر تھا لیکن اب ایک ویران دشت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ لیکن اسی ویرانے میں ایک خوبصورت گنبدی مسجد کے آثار بھی موجود ہے جو دو گنبد دار کمروں پر مشتمل ہے جسے ٹائلوں سے مزین کیا گیا ہے۔ ایک کمرے کے درمیان ایک کتبہ موجود ہے جس کی عبارت کے مطابق یہ عمارت تیسری صدی ہجری کے صفاری عہد کی یادگار ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری