تسنیم کی خصوصی رپورٹ/

دہشت گرد ایرانی پارلیمنٹ میں کیسے داخل ہوئے؟

خبر کا کوڈ: 1430555 خدمت: ایران
ایرانی پارلیمنٹ پر دہشتگردانہ حملہ

دہشت گردوں کا ایک گروہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اس فلور میں داخل ہوا جہاں ارکان پارلیمنٹ کے دفاتر ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق گزشتہ روز صبح 10:30 بجے دہشت گردوں کے دو گروہوں نے ملک کے دو حساس اور اہم مراکز امام خمینی رہ کے مزار اور اسلامی جمہوری ایران کی قومی اسمبلی کو اپنے ناکام حملوں کا نشانہ بنایا۔

اس سانحے میں پہلے ایک گروہ قومی اسمبلی کی عمارت میں داخل ہوتا ہے اور سیکورٹی کے کچھ اہلکاروں کو شہید کر دیتے ہیں۔ قومی اسمبلی پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی تعداد 4 تھی جو اسمبلی کے مشرقی گیٹ سے داخل ہوئے تھے جہاں سے عام لوگ قومی اسمبلی کے ارکان کے دفاتر میں اپنی شکایات اور کام کے سلسلے میں آتے جاتے رہتے ہیں۔

دہشت گرد وزیٹرز لابی کی طرف جانے والے دروازے سے ملاقات کرنے والے افراد کے بھیس میں داخل ہوتے ہیں اور داخل ہوتے ہی ایک سیکورٹی اہلکار کو شہید کردیتے ہیں اور عام شہریوں پر فائرنگ شروع کرتے ہیں۔

اس کے بعد دہشت گرد اصل دروازے کی طرف بڑھتے ہیں یہاں سے دو راستے ہیں، ایک ارکان اسمبلی کے دفاتر کی طرف جاتا ہے جبکہ دوسرا اسمبلی کی اصل لابی کی طرف۔ اسمبلی کی اصل لابی کی طرف جانے والے راستے میں ایک دھاتی دروازہ ہے جسے اسمبلی کے سیکورٹی اہلکار بند کرتے ہوئے دہشت گردوں کو اصل لابی میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔

ایسے میں دہشت گردوں کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا اور وہ سیڑھیوں کے راستے اس عمارت میں گھس جاتے ہیں جہاں ارکان اسمبلی کے دفاتر موجود ہیں دہشت گرد یہاں کچھ لوگوں کو اپنے ظلم و تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور چوتھے فلور پر مورچہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں۔

پہلی جھڑپ کے بعد ایک دہشت گرد اصل لابی میں داخل ہونے کی امید سے ایک بار پھر نیچے آتا ہے لیکن مایوس ہوکر سڑک پر کھڑے لوگوں پر فائرنگ کرنے کے بعد پھر اپنے ساتھیوں کے پاس واپس چلا جاتا ہے۔

پارلیمنٹ کی سیکورٹی پر مامور اہلکاروں نے بڑی ہوشیاری اور حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے اس عمارت کو عام شہریوں سے خالی کراتے ہیں اور چوتھے فلور کو اپنے محاصرے میں لیتے ہیں اور اس دہشت گردانہ حملے کو ناکام بناتے ہوئے ختم کردیتے ہیں۔

تمام دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے بعد سپاہ پاسداران فورس اسمبلی کی عمارت کو خالی کراتے وقت دیکھتے ہیں کہ دہشت گردوں نے شہداء کی لاشوں کے نیچے گرینیڈ چھپا رکھے ہیں تاکہ شہداء کے لاشیں اٹھاتے وقت دھماکے ہوں لیکن سپاہ کی ہوشیاری اور حاضر دماغی سے دہشت گردوں کا یہ منصوبہ بھی خاک میں مل جاتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری