حسن روحانی کی تہران حملوں کی فوری تحقیقات پر تاکید

خبر کا کوڈ: 1430628 خدمت: ایران
روحانی

ایران کے صدر نے کہا ہے کہ ایرانی قوم اپنے اتحاد اور اپنا دفاعی نظام اور مضبوط کرتے ہوئے دشمنوں کی سازش اور چالوں کو خاک میں ملا دے گی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق صدر مملکت حسن روحانی نے ماہ مبارک رمضان میں اس دہشت گردانہ حملوں میں شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز، ایجنسیاں اور حفاظتی ادارے باہمی اتحاد اور ہماہنگی کے ساتھ اس حملے کے تمام پہلووں اور دہشت گردوں کے حامیوں کو منظر عام پر لانے تک آرام و چین کا سانس نہیں لیں گے۔

صدر مملکت کے بیان کا متن ذیل میں درج ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

اے ایران کی عظیم قوم! اے بہادر مرد اور خواتین! تم نے انقلاب اسلامی کے اوائل سے اپنے دشمن کے مکر و فریب اور دہشت گردانہ کارروائیوں سے لیکر آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ تک ہی اپنی عزت و شرافت، استقلال و آزادی کی قیمت اپنے خون اور نسلوں کی قربانی دے کر چکائی ہے۔

آج بھی تہران پر ہونے والا بزدلانہ دہشت گردانہ حملہ جس میں مرقد امام اور قومی اسمبلی میں کئی اہل وطن روزہ دار شہید ہو گئے، کوئی نیا یا چونکا دینے والا اقدام نہیں تھا۔

ایران نے انقلاب اسلامی کے تقریبا چار عشروں کے دوران دینی جمہوریت کے ساتھ ساتھ قومی اقتدار کے تمام مراحل کو طے کر لیا ہے۔

ایران، رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ امام خمینی کی دور اندیش قیادت، انتظامیہ، دفاعی اور خفیہ سمیت تمام اداروں کے باہم اتحاد اور یکجہتی سے آشوب سے دوچار اس خطے کا سب سے پرامن ملک ہے۔

ظاہر سی بات ہے کہ ملک کے دشمنوں کو ایران کی یہ کامیابیاں کیسے برداشت ہونگی؟

لہذا ہمارا دشمن ان کوششوں میں مصروف ہے کہ خطے میں اپنی شکست فاش اور اسلامی اقدار کی خلاف ورزی اور اپنی عوام کی ناراضگی کو چھپانے کے لئے دہشتگرد تکفیری عناصر کی حمایت کرے لیکن وہ اس بات سے غافل ہے کہ آزمائے ہوئے کو بار بار آزمانا بہت بڑی بھول ہے۔

ایرانی قوم فرزند عاشورا ہے ہم اس بات کو پھر ثابت کر دیں گے کہ ہم اپنے اتحاد اور دفاعی نظام کو مزید تقویت بخشتے ہوئے دشمن کی ہر چال اور ہر مکر کو ناکام بنا دیں گے۔

تہران میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے دہشت گردی اور تعصب و شدت پسندی سے مقابلہ کرنے کے ہمارے عزم کو اور مستحکم کرے گا۔

ایران کا ہمیشہ کی طرح ایک ہی پیغام ہے کہ دہشت گردی سب کا مشترکہ مسئلہ ہے اور دہشت گردی، تعصب اور شدت پسندی سے مقابلے کے لئے متحد ہونا عالمی سماج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

میں ماہ مبارک رمضان میں اس سانحے میں شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔ مظلوم شہداء کے لئے عالی درجات اور پسماندگان کے لئے صبر اور اجر کا طالب نیز اس حادثے میں زخمی ہونے والوں کی جلد از جلد شفایابی ک دعا کرتا ہوں۔

ظاہر ہے کہ حکومت، انٹیلی جینس، حفاظتی اور انتظامی ادارے اس سانحے کے تمام پہلووں اور اس کے پس پردہ عناصر کی نشاندہی کرنے تک آرام کا سانس نہیں لیں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری