عمران دقنیش کے والد نے امریکہ اور آل سعود کا بھانڈا پھوڑ دیا/ ویڈیو + تصاویر

خبر کا کوڈ: 1430962 خدمت: اسلامی بیداری
شامی بچہ

عمران دقنیش نامی شامی بچے کی تصاویر گزشتہ سال اگست میں اس وقت سامنے آئی تھیں جب مشرقی حلب میں امریکی، سعودی دہشت گردوں کی بمباری کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگیا تھا اور اب یہ ننھا بچہ اپنے والد کی گود میں بیٹھا صحت مند اور ٹھیک لگ رہا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق گزشتہ سال کی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کسی ایمبولینس کی نشست پر بیٹھا ہوا ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ اس بات سے بے خبر ہے کہ خون اس کے چہرے پر پھیلا ہوا ہے۔ بدحواس، مٹی میں لت پت اور الجھن میں مبتلا ہے۔

اس بچے کو ایمبولینس میں بٹھا کر لے جانے کی تصاویر اور ویڈیو  "وائٹ ہیلمٹ" نامی امریکی حمایت یافتہ القاعدہ کے دہشت گرد تنظیم نے سوشل میڈیا پر شامی حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کیلئے شیئر کی تھیں۔ یہ تصاویر مغربی میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں کروڑوں افراد نے دیکھیں اور اسے دیکھ کر تڑپ اٹھے تھے۔

دی گئی ویڈیو میں عمران دقنیش کے والد نے خاموشی توڑتے ہوئے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا اور اصل حقیقت کو منظر عام پر لے آیا۔

واضح رہے کہ یہ خاندان حکومت مخالف گروپس کے زیر قبضہ علاقے میں مقیم تھا تاہم وہ شامی حکومت کا حامی تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس سے پہلے وہ انٹرویو دینے سے انکار کرتا رہا۔

اب اس خاندان نے شامی حکومت کے حامی ٹی وی چینیلز کو انٹرویو دیئے ہیں اور عمران کے والد کے مطابق باغی گروپس اور بین الاقوامی میڈیا ان کے بیٹے کو شامی حکومت کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔

ان کے بقول "وہ میرے بیٹے کے خون کو بیچنا چاہتے تھے اور اس کی تصاویر شائع کرنا چاہتے تھے، جس سے بچنے کے لیے میں نے بیٹے کے سر کو صاف کرا دیا تاکہ کوئی اسے پہچان نہ سکے۔"

    تازہ ترین خبریں