بریگیڈیر جنرل  حسین سلامی:

انتقام لینا سپاہ کے منشور میں ہے، لیکن اس کا وقت اور مقام پوشیدہ ہے

خبر کا کوڈ: 1431465 خدمت: ایران
حسین سلامی

سپاہ انقلاب کے نائب جنرل نے کہا کہ تہران پر ہوا دہشت گردانہ حملہ ہمارے دشمنوں کی ایک اور بڑی سیاسی غلطی ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے بریگیڈیر جنرل حسین سلامی نے کہا ہے کہ اس فتنہ سے نمٹنے کے لئے ہمارے  فورسز نے ہمت و شجاعت سے کام لیا ہے یہ قوم و ملت کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ ریاض میں سعودی عرب امریکہ اور غاصب صیہونی سازش کا نتیجہ ہے۔

ہمارے شکست خوردہ دشمن نے خطے میں اپنی ہار کا بدلہ لینے کے لئے اور ایران کی امن و سلامتی کو درہم برہم کرنے کے لئے یہ بزدلانہ حملہ کیا۔

ہم نے کل کے حملوں کو ناکام بناتے ہوئے اپنے دشمنوں کے ایک خواب کو زندہ درگور کر دیا ہے اور یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ایران اپنی سلامتی اور امن و امان سے کھیلنے والوں کے لئے قبرستان ہے۔

انہوں نے کہا کہ امام خمینیؒ کے مزار اور جمہوری اسلامی کی قومی اسمبلی پر حملہ کرنے والا ایک بھی دہشت گرد زندہ و سالم نہیں رہا لیکن ہماری فورسز کے کسی جوان کو ہلکا سا زخم بھی نہیں آیا حالانکہ اس حملے میں ہماری عوام میں سے کئی بے گناہ افراد شہید ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے خطے میں ملی ناکامیوں کے بدلے میں یہ حملہ کیا ہے خطہ میں آل سعود کی سیاست شکست سے دوچار ہو چکی ہے داعش پر قافیہ حیات تنگ ہو چکا ہے اور وہ نابود ہونے کے قریب ہے۔

ریاض میں ہونے والے سعودی امریکی اجلاس کا ایک سیاسی نتیجہ نکلنا تھا ممکن ہے کہ تہران پر ہونے والا دہشت گردانہ حملہ وہی ہو۔

اسلامی جمہوری ایران ان دنوں خطے کی مشکلات حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ہم اس خطہ کی سرنوشت میں شریک ہیں۔

خطہ کی حکومتیں ہماری مزاحمتی سیاست کی حمایت بھی کرتی ہیں آج ایران کی پئے در پئے کامیابیوں کے جواب میں آل سعود کے پاس سوائے دہشت گردی اور تفرقہ اندازی کے اور کچھ نہیں ہے۔

آل سعود نے اس سے پہلے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ جنگ اور بدامنی کو ایران کی سرحدوں میں لے جائیں گے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ایران کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں حالانکہ ان کے خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہونگے۔

    تازہ ترین خبریں