آیۃ اللہ رشاد: داعش کی پے در پے ناکامی چھپانے کی کوشش

خبر کا کوڈ: 1431564 خدمت: ایران
علی اکبر رشاد

آیۃ اللہ علی اکبر رشاد نے تہران حملے کے پس منظر میں فرمایا ہے کہ اس بزدلانہ حملہ نے دہشت گرد تنظیموں کے آقا اور ان کے حامیوں کو پہلے سے کہِیں زیادہ ذلیل و رسوا کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تمدنی تحقیق اور تفکر اسلامی کے سربراہ آیۃ اللہ علی اکبر رشاد نے تران حملہ پر یک بیانیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام و عراق کے محاذ پر انقلاب اسلامی کے نونہالوِں کی عزم و ہمت اور شجاعت کے سامنے پلید دہشت گرد تنظیم داعش کو ملتی شکست اور ناکامی کی ذلت مٹانے کے لئے اس تنظیم نے اپنے زرخریدوں کو اسلامی دنیا کے دھڑکتے ہوئے دل میں یہ مذموم اور بزدلانہ حملہ کرنے کے لئے بھیجا جس کی فوجی نقطہ نظر سے بھی کوئی اہمیت نہیں تھی اور کئی روزہ دار مومنوں کی شہادت اور زخمی ہونے کا سبب بنا۔

اس بزدلانہ حملہ نے دہشت گرد تنظیموں کے آقا اور ان کے حامیوں کو پہلے سے کہِیں زیادہ ذلیل و رسوا کر دیا ہے۔

یہ حملہ ہماری قوم و ملت کے لئے بہت سخت ہے لیکن کچھ پہلو سے مثبت بھی ہو سکتا ہے جیسے یہ حملہ بہت سے جاہل اور نادان اور قدر ناشناس افراد کے لئے ایک پیغام ہو سکتا ہے کہ ہمارے وسیع و عریض ملک میں قائم امن و امان سے آگاہ ہو جائے اور ہماری سرحدوں پر تعینات با ایثار اور جانباز محافظین کی عظمت و اہمیت کو سمجھ لے۔

بے شک ہماری قوم اور حکومت کے لئے یہ حادثہ بہت جانکاہ ہے اور اسے سنجیدگی سے لیں گے اور خمینی کبیر کے فرزند دور اندیش و با حکمت خامنہ ای کے فرماں بردار اس گھناونے حملہ کی سازش کرنے والوں کو میدان جنگ میں منہ توڑ جواب دیں گے۔

میں حوزہ علمیہ تہران کا ایک ادنی سا طالب علم اپنی اور اپنے ساتھیوں کی طرف سے امام عصر علیہ السلام، رہبر انقلاب اور دیگر مراجع عظام اور عوام بالخصوص اس حادثہ میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو اس غمناک حادثہ کی تعزیت پیش کرتا ہوں۔ 

اس ماہ مبارک میں روزہ کی حالت میں شہید ہونے والے کے لئے علو درجات اور پسماندگان کے لئے صبر عظیم کا طالب ہوں ۔

 

    تازہ ترین خبریں