ایران میں اہلسنت کا مقام-5

ماموستا سجادی: دہشتگردوں کا مقصد ایران کے شیعہ و سنی مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنا ہے

خبر کا کوڈ: 1431629 خدمت: انٹرویو

سروآباد کے امام جمعہ کا کہنا ہے کہ دین مبین کے لحاظ سےداعش اور دہشتگردوں کا کوئی مقام و رتبہ نہیں ہے، تہران میں دہشتگردانہ حملہ ایک بزدلانہ حرکت تھی۔

ماموستا سید احمد سجادی نے خبررساں ادارے تسنیم کے رپورٹر سے مخصوص گفتگو میں تہران حملوں کے ہدف کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا: دہشتگرد اور حکومت دشمنوں کے ان حملوں کا ہدف ایران کے شیعہ و سنی مسلمانوں کے درمیان اختلاف ایجاد کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت دشمن جانتے تھے کہ ایران ایک پر امن ملک ہے اس لئے وہ ان اقدامات کے ذریعہ ایران کی امن و سلامتی پر  سوالیہ نشان لگانا چاہتے تھے۔

سرو آباد کے امام جمعہ نے صراحت کے ساتھ کہا کہ داعش کے پاس اب کچھ باقی نہیں رہا وہ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے، اس کے لئے دنیا میں کوئی پناہگاہ نہیں بچی۔

ان دہشتگردانہ حملوں کے ذریعہ اپنے وجود کو ظاہر کرنا چاہتا تھا جس میں اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

انہوں نے کہا  کہ داعش اور دہشتگردوں کی دین میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ تہران پر ہوا بزدلانہ حملہ ایک قبیح اور مذ موم حرکت ہے ان لوگوں میں مد مقابل آکر لڑنے کا حوصلہ نہیں۔

ماموستا سجادی نے کہا دہشتگرد بے نظیر قوت و عظمت کے حامل ایران سے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری اسلامی نظام اور ایرانی عوام  ہمیشہ سربلند اور ثابت قدم ہیں اور اس سربلندی اور عظمت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ دہشت گردانہ حملوں جیسی پست حرکتیں ایران کی امنیت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

سروآباد کے امام جمعہ نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا میں مطمئن ہوں کہ یہ پست حرکت خداوند متعال کی نگاہ میں بھی مذموم اور قبیح ہے کیونکہ قرآن و شریعت اور علماء کی نگاہ میں اسکا کوئی جواز نہیں ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری