نواز شریف کی کچھ حلیف اور کچھ حریف ہمسایوں سے ملاقات

خبر کا کوڈ: 1431970 خدمت: پاکستان
نواز مودی غنی

قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ’شنگھائی تعاون تنظیم‘ کے سربراہ اجلاس کے موقعے پر پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت بھارت، افغانستان، چین اور روس کے سربراہان سے ملاقات کی۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ’شنگھائی تعاون تنظیم‘ کے سربراہ اجلاس کے موقعے پر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت اپنے ہمسایہ ممالک بھارت، افغانستان، چین اور روس کے سربراہان سے ملاقات کی۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی:

اجلاس کے دوران وزیراعظم نواز شریف کی اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے ایک مختصر غیر رسمی رابطے میں جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل ہونے پر بھارت کو مبارک باد دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ تنظیم ہمیں اعتماد سازی، امن اور معاشی ترقی کیلئے ایک طاقتور پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ تنظیم دہشت گردی کے خاتمے، اسلحہ کی دوڑ کم کرنے، غربت اور مہلک امراض کا مقابلہ کرنے، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور پانی کے تحفظ یقینی بنانے میں بھی مدد گار ہوگی۔

دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے عزم کی بھرپور توثیق کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان نے بہادری کے ساتھ اس برائی کے خلاف جدوجہد کی ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا بھی ذکر کیا اور خطے کی ترقی کیلئے مل کر آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اطلاعات مطابق وزیر اعظم نواز شریف کی اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات قزاقستان کے صدر نور سلطان نذر بائیوف کی طرف سے دیئے گئے اعشائیے کے موقع پر ہوئی تھی۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق، ایک دوسرے کی خیریت سے متعلق جملوں کے تبادلے کے علاوہ بھارتی وزیر اعظم نے نواز شریف کی والدہ کی خیریت بھی دریافت کی تھی لیکن عشایئے کے موقع پر دونوں رہنما الگ الگ میز پر بیٹھے۔

یاد رہے کہ دسمبر 2015 کے بعد دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان یہ پہلا براہ راست رابطہ تھا۔ 25 دسمبر 2015 کو کابل کے دورے سے واپسی پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے لاہور میں کچھ دیر قیام کیا اور پاکستانی ہم منصب سے اُن کی رہائشگاہ پر ملاقات کی تھی۔

 

افغان صدر اشرف غنی:

اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف اور صدر اشرف غنی کے درمیان ملاقات میں خطے میں سلامتی کی صورت حال، خاص طور پر دہشت گردی سے جڑے معاملات اور پاک افغان سرحد پر پاکستان کی جانب سے باڑ لگائے جانے کے معاملات زیر غور آئے۔

وزیراعظم نواز شریف نے افغان صدر کی ملاقات میں واضح کیا ہے کہ افغانستان کیخلاف پاکستان کی سرزمین استعمال ہوئی نہ مستقبل میں ہو گی۔

وزیراعظم نواز شریف نے واضح کیا کہ اگر افغانستان کابل حملے کا الزام پاکستان پر عائد کر رہا ہے تو اس کے واضح ثبوت دے محض الزامات نہ لگائے۔

پاکستان کی خواہش ہے افغانستان میں دیرپا امن قائم ہو۔ مسائل کا حل آپس میں بات چیت کے ذریعے ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا ملافضل اللہ جیسے لوگ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں اور گزشتہ ہفتے کابل میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد افغان انٹیلی جنس ایجنسی (این ڈی ایس) نے اس کا الزام پاکستان کے سر منڈھ دیا تھا۔

اس بم حملے میں 150 افراد ہلاک اور لگ بھگ 400 زخمی ہوگئے تھے۔

پاکستان کی طرف سے کابل میں بم حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے افغان حکومت و عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ لیکن، ساتھ ہی افغانستان کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد بھی کیا گیا۔

صدر اشرف غنی سے وزیراعظم نواز شریف کی ملاقات میں پاکستان کی جانب سے مشیر خارجہ سرتاج عزیز بھی شریک تھے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن:

روس کے صدر پیوٹن نے پاکستان کو سکیورٹی کے معاملات اور دہشت گردی کیخلاف مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ چیلنجز سے نمٹنے میں پاکستان کو مدد دیں گے۔ 

روسی صدر نے کہا کہ خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔ خطے میں پاکستان کو درپیش چیلنجز میں روس مثبت کردار ادا کرے گا۔

ملاقات میں سکیورٹی کے مسائل اور دہشت گردی کے خلاف مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ روسی صدر نے کہا کہ پاکستان کا مسائل حل کرنے میں ہر طرح سے ساتھ دیں گے۔ کسی قسم کا مثبت کردار ادا کرنے میں روس پیچھے نہیں ہٹے گا۔

چینی صدر ژی جن پنگ:

وزیراعظم نے اگلے پانچ سال کیلئے اچھی ہمسائیگی کے طویل مدتی معاہدے کی ضرورت کے بارے میں چین کے صدر ژی جن پنگ کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ہمیں اپنی اگلی نسلوں کیلئے تنازعات، دشمنی اور زہریلی فصل کی بجائے امن اور ہم آہنگی کی وراثت کو چھوڑنا چاہیے۔

ان تمام سربراہان نے پاکستان کو ایس سی او کی رکنیت ملنے پر  مبارکباد بھی پیش کی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوئیٹرس:

وزیر اعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مسئلہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، پاکستان میں براہ راست اور افغانستان کے ذریعے بالواسطہ بھارتی مداخلت اور دہشتگردی سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا وزیراعظم سے ملاقات بہت اچھی اور مثبت رہی ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کا مستقل رکن بننے پر وزیراعظم کو مبارکباد دی۔

خیال رہے کہ سیاسی ماہرین کی جانب سے دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کے تناظر میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی بھاری ہم منصب اور صدر اشرف غنی سے ملاقات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اعتماد سازی اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کے بھارت اور افغانستان کے ساتھ ہر سطح پر رابطوں کو بڑھایا جائے۔

    تازہ ترین خبریں