"درعا" میں تکفیری دہشت گردوں کے خلاف شامی افواج کی کارروائیاں جاری

خبر کا کوڈ: 1432005 خدمت: دنیا
ارتش سوریه

شامی ذرائع ابلاغ نے درعا میں تکفیری دہشت گردوں کے خلاف فوج کے وسیع آپریشن اور دیرالزور میں ایک دہشتگرد سرغنے کی ہلاکت کی خبر دی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق شامی افواج نے مشرقی حمص کے مضافات اور "الفری" چوٹی کے شمال مشرق میں وسیع فوجی مہم چلاتے ہوئے صحرا کو آزاد کرا لیا ہے اس آپریشن کا مقصد عراقی سرحدوں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔

دمشق کے مضافات میں بھی فوج نے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل الدکوۃ علاقے کو دسیوں دہشتگردوں کی ہلاکت کے بعد آزاد کرا لیا ہے۔

جنوبی شام میں فوج وسیع پیمانے پر آپریشن کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

شام کے فوجی ذرائع نے تسنیم کے صحافی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شامی فضائیہ کے طیاروں نے نعیمیہ اور المنشیہ میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے۔

یاد رہے کہ فروری کے مہینے میں بھی اس علاقے میں فوج اور دہشتگردوں کے درمیان شدید جنگ ہوئی تھی۔

دہشت گرد گذشتہ روز المنشیہ میں کئی حملے کر چکے ہیں تاہم انہیں شامی فوج کے ہاتھوں زبردست شکست کھانا پڑی اس علاقے کی اہمیت کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ یہاں سے اردن اور شام کی سرحد کا فاصلہ صرف ایک کیلومیٹر ہے۔

دوسری طرف دیرالزور میں بھی شامی افواج اور دہشتگردوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور شامی طیارے دہشتگردوں کے اڈوں پر شدید بمباری میں مصروف ہیں۔

دوسری طرف داعش نے اعتراف کیا ہے کہ شامی افواج سے ہونے والی جنگ میں ان کا اہم کمانڈر ابو عمر البلجیکی ہلاک ہو گیا ہے۔

دوسری طرف امریکی اتحاد نے ایک بار پھر دیرالزور کے مضافات میں واقع القوریہ شہر میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق یہ حملہ اس وقت ہوا جب یہاں کے شہری کسی مرحوم کے جنازے کی تدفین میں مصروف تھے اس حملے میں متعدد افراد جاں بحق ہو گئے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز بھی امریکی جنگی طیاروں نے اس علاقے میں حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 10 عام شہری مارے گئے تھے۔

اس سے پہلے شامی افواج نے دمشق کے مشرق میں حوش الضواہرۃ کو دہشت گردوں سے شدید جنگ کے بعد آزاد کرانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

    تازہ ترین خبریں