امام حسن مجتبی علیہ السلام کے ظہور پرنور کی مناسبت سے

حسن اور حسین (علیہم السلام) جوانان جنت کے سردار ہیں: حدیث مبارک

خبر کا کوڈ: 1432506 خدمت: دنیا
امام حسن علیہ السلام

آپ اپنے والدین کی پہلی اولاد ہیں اور 15/ رمضان 3 ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں دنیا میں تشریف لائے۔

تسنیم نیوز ایجنسی: حضرت امام حسن علیہ السلام کے والد ماجد حضرت امام علی علیہ السلام اور آپ کی والدہٴ ماجدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام الله علیہا ہیں۔

رسول صلی علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں آپ کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی خوشی تھی۔

آپ کی ولادت نے رسول کے دامن سے مقطوع النسل ہونے کا دھبہ صاف کردیا اور دنیا کے سامنے سورہ کوثرکی ایک عملی اور بنیادی تفسیر پیش کردی۔

سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بحکم خدا، موسی علیہ السلام کے وزیر ہارون کے فرزندوں کے شبر و شبیر نام پرآپ کا نام حسن اور بعد میں آپ کے بھائی کا نام حسین رکھا۔

بحارالانوار میں ہے کہ امام حسن علیہ السلام کی پیدائش کے بعد جبرئیل امین نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک سفید ریشمی رومال پیش کیا جس پرحسن لکھا ہوا تھا۔

مشہور تاریخ داں جلال الدین نے اپنی کتاب تاریخ الخلفاء میں لکھا ہے کہ آپ کی صورت پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے بہت ملتی تھی۔

آپ کی کنیت ابو محمد تھی اور آپ کے القاب بہت کثیرہیں، جن میں طیب، تقی، سبط، ناصح، امین اور سید زیادہ مشہور ہیں۔

محمد بن طلحہ شافعی کابیان ہے کہ آپ کا سیدلقب خود سرور کائنات صلی الله علیہ وآلہ وسلم کاعطا کردہ ہے۔

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ امام حسن اسلام پیغمبراسلام کے نواسے تھے لیکن قرآن نے انہیں فرزندرسول کا درجہ دیا ہے اوراپنے دامن میں جابجا آپ کے تذکرہ کو جگہ دی ہے خود سرورکائنات نے بے شمار احادیث آپ کے متعلق ارشادفرمائی ہیں۔

ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ میں حسنین (علیہم السلام) کو دوست رکھتا ہوں اور جو انہیں دوست رکھے اسے بھی قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔

ایک صحابی کا بیان ہے کہ میں نے رسول کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں دیکھا ہے کہ وہ ایک کندھے پرامام حسن علیہ السلام کو اور ایک کندھے پر امام حسین علیہ السلام کو بٹھائے ہوئے لیے جارہے ہیں اورباری باری دونوں کا منہ چومتے جاتے ہیں۔

ایک صحابی کا بیان ہے کہ ایک دن آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور حسنین علیہم السلام آپ کی پشت پرسوار ہو گئے کسی نے روکنا چاہا تو حضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ سے منع کردیا۔

ایک صحابی کا بیان ہے کہ میں اس دن سے امام حسن عکیہ السلام کوبہت زیادہ دوست رکھنے لگا ہوں جس دن میں نے رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی آغوش میں بیٹھ کر انہیں داڈھی سے کھیلتے دیکھا۔

ایک دن سرور کائنات صلی الله علیہ وآلہ وسلم امام حسن علیہ السلام کو کاندھے پر سوار کئے ہوئے کہیں لیے جارہے تھے ایک صحابی نے کہا کہ اے صاحبزادے تمہاری سواری کس قدر اچھی ہے یہ سن کرآنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ کہو کہ کس قدر اچھا سوار ہے۔

امام بخاری اور امام مسلم لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم امام حسن علیہ السلام کو کندھے پربٹھائے ہوئے فرما رہے تھے خدایا میں اسے دوست رکھتا ہوں توبھی اس سے محبت کر۔

حکیم ترمذی، نسائی اور ابوداؤد نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم ایک دن محو خطبہ تھے کہ حسنین علیہم السلام آ گئے اور حسن علیہ السلام کے پاؤں دامن عبا میں اس طرح الجھے کہ زمین پرگرپڑے۔

 یہ دیکھ کر آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ترک کردیا اور منبر سے اتر کر انہیں آغوش میں اٹھا لیا اور منبر پرتشریف لے جاکرخطبہ شروع فرمایا۔

سرورکائنات صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ”الحسن والحسین سیداشباب اہل الجنة وابوہماخیرمنہما“ حسن اورحسین (علیہم السلام) جوانان جنت کے سردار ہیں اور ان کے والد بزرگوار یعنی علی بن ابی طالب ان دونوں سے بہترہیں۔

جناب حذیفہ یمانی کابیان ہے کہ میں نے آنحضرت کو ایک دن بہت زیادہ مسرور پاکرعرض کی مولا آج افراط شادمانی کی کیا وجہ ہے ارشادفرمایا کہ مجھے آج جبرئیل علیہ السلام نے یہ بشارت دی ہے کہ میرے دونوں فرزند حسن وحسین (علیہم السلام) جوانان بہشت کے سردار ہیں اور ان کے والد علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) ان سے بھی بہتر ہیں۔

امام زین العابدین فرماتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام زبردست عابد، بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے۔

آپ نے جب بھی حج فرمایا پیدل فرمایا، کبھی کبھی برہنہ پا حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثرموت، عذاب، قبر، صراط اور بعثت و نشور کو یاد کر کے رویا کرتے تھے۔

جب آپ وضو کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ زرد ہوجایا کرتا تھا اور جب نماز کے لیے کھڑ ے ہوتے تھے تو بید کی مثل کانپنے لگتے۔

آپ جب نماز صبح سے فارغ ہوتے تھے تواس وقت تک خاموش بیٹھے رہتے تھے جب تک سورج طالع نہ ہوجائے۔

امام شافعی لکھتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام نے اکثر اپنا سارا مال راہ خدا میں تقسیم کردیا اور بعض مرتبہ نصف مال تقسیم فرمایا ہے وہ عظیم و پرہیزگار تھے۔

مورخین لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت امام حسن علیہ السلام سے کچھ مانگا، دست سوال دراز ہونا تھا کہ آپ نے پچاس ہزار درہم اور پانچ سو اشرفیاں دے دیں اور فرمایا کہ مزدور لا کراسے اٹھوا لے جا اس کے بعد آپ نے مزدور کی مزدوری میں اپنا چوغا بخش دیا۔

ایک مرتبہ آپ نے ایک سائل کوخدا سے دعا کرتے دیکھا کہ خدایا مجھے دس ہزار درہم عطا فرما۔ آپ نے گھر پہنچ کر مطلوبہ رقم بھجوا دی۔

علامہ ابن شہرآشوب تحریرفرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت امام حسن علیہ السلام گھوڑے پرسوارکہیں تشریف لیے جارہے تھے راستہ میں آپ سے بغض رکھنے والا ایک شامی سامنے آ پڑا اس نے حضرت کو گالیاں دینی شروع کردیں آپ نے اس کا مطلقا کوئی جواب نہ دیا۔

جب وہ اپنی جیسی کر چکا تو آپ اس کے قریب گئے اوراس کو سلام کر کے فرمایا کہ بھائی شاید تومسافر ہے، سن اگرتجھے سواری کی ضرورت ہوتومیں تجھے سوری دیدوں، اگر تو بھوکا ہے  تو کھانا کھلادوں، اگرتجھے کپڑے درکارہوں تو کپڑے دیدوں، اگرتجھے رہنے کوجگہ چاہئے تو مکان کا انتظام کر دوں، اگر دولت کی ضرورت ہے تو تجھے اتنا دیدوں کہ توخوش حال ہو جائے۔

یہ سن کر شامی بےانتہا شرمندہ ہوا اور کہنے لگا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ زمین خدا پر اس کے خلیفہ ہیں، مولا میں تو آپ کو اور آپ کے باپ دادا کوسخت نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا لیکن آج آپ کے اخلاق نے مجھے آپ کا گردیدہ بنا دیا اب میں آپ کے قدموں سے دورنہ جاؤں گا اور تاحیات آپ کی خدمت میں رہوں گا۔

حضرت امام حسن علیہ السلام کی شہادت 50 ہجری میں ماہ صفر کی 28/تاریخ کو مدینہ میں زہر سے ہوئی۔

    تازہ ترین خبریں