جائزہ رپورٹ/

قطر اور آل سعود کے درمیان کشیدگی پر ایک نظر، دوحہ کا انتخاب اور آل سعود کی چال

خبر کا کوڈ: 1433230 خدمت: دنیا
قطر عربستان

قطر اور آل سعود کے اختلافات گذشتہ کئی سال سے چلے آرہے ہیں لیکن اس بار یہ اختلافات کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہیں تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بار بھی یہ اختلافات پس پشت ڈال دئے جائیں گے یا کچھ اور ہی نتیجہ سامنے آئے گا؟

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ریاض اجلاس کے بعد پیش آنے والے واقعات اور امیر قطر کے بیان نے خلیج تعاون کونسل کے اختلافات کو ایک بار پھر ہوا دے دی ہے۔

خلیج فارس کے عرب ممالک میں اختلاف کی چنگاری

ایران سے تعلقات اور مزاحمتی تحریک کے خلاف ریاض میں امریکی – سعودی اجلاس کے ایک روز بعد ہی امیر قطر کے بیان نے میڈیا میں ہلچل مچا دی۔

سعودی میڈیا نے قطر نیوز ایجنسی "قنا" کے حوالے سے لکھا کہ قطر ایک ہی وقت میں امریکہ اور ایران سے بہتر تعلقات بنانے میں کامیاب رہا ایران جو ایک اسلامی اور علاقائی طاقت ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ قطر اس بات کا حامی ہے کہ علاقائی طاقت اور خطے میں امن وامان کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ملک کے ساتھ اختلافات بڑھانا عقلمندی نہیں ہے۔

ان باتوں کے سنتے ہی آل سعود کے میڈیا چینلز نے ایک ہنگامہ برپا کر دیا سعودی عرب اور اس کے ہمنوا چند ممالک میں قطر کے میڈیا چینلز پر پابندی لگاتے ہوئے امیر قطر کے خلاف ایک محاذ کھول دیا گیا۔

اگلے ہی روز امیر قطر نے ایرانی صدر حسن روحانی کو ایک بار پھر ایران کا صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور قطر کے روابط تاریخی اور نہایت مستحکم ہیں اور ہم گزرتے وقت کے ساتھ ان روابط کو اور مضبوط کریں گے۔

اس گفتگو میں اہم نکتہ یہ تھا کہ امیر قطر نے کہا کہ وہ ذمہ دار عہدیداران کو حکم دیں گے کہ وہ تہران اور دوحہ کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں۔

اس پیشرفت کے صرف دو دن بعد ہی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر پر دہشت گردی کی حمایت اور دوسرے ممالک کے اندرونی مسائل میں مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے اپنے سفارتی تعلقات ختم کر دئے۔

سعودی عرب نے اپنے اس غیر عاقلانہ اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد کی حفاظت اور دہشت گردی سے بچنے کے لئے یہ قدم اٹھانا نہایت ضروری تھا۔

آل سعود نے اعلان کیا کہ قطر اخوان المسلمین، داعش اور القاعدہ کا حامی ہے وہ مشرقی حجاز اور بحرین  میں ایران کے حمایت یافتہ عناصر کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

مصر نے بھی قطر پر دہشت گرد تنظیموں من جملہ اخوان المسلمین کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنے روابط منقطع کر لئے۔

متحدہ عرب امارات نے ملک میں بدامنی پیدا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اپنے بندرگاہوں کو قطر کے لئے بند کیا اور اپنے سفارتی تعلقات ختم کر دئے۔

کچھ ماضی کے اختلافات

حالانکہ یہ اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے خلیج فارس کے ان ممالک کے درمیان اس سے پہلے بھی اختلاف رونما ہوتے رہے ہیں۔

قطر اور آل سعود کے درمیان کشیدگی 19ویں صدی کے وسط میں اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب آل سعود نے قطر کے جنوب مشرقی ساحل کے 22 میل علاقے پر اپنی ملکیت کا دعوی کیا۔ قطر اور آل سعود کے درمیان پائے جانے والے متعدد اختلااتف میں یہ سب سے سنجیدہ مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ دونوں ممالک کے لئے کئی بار مشکل ساز ہو چکا ہے یہاں تک کہ اس مسئلہ کی وجہ سے اگست 1992میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی جھڑپ بھی ہو چکی ہے جس میں ایک سعودی اور دو قطری فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی مسئلہ کی وجہ سے قطر نے 1992 میں خلیج تعاون کونسل کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا لیکن 20 دسمبر 1992 میں ایک معاہدہ پر دستخط کرتے ہوئے دونوں ممالک نے اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال دئے اور اس معاہدے کے نتیجے میں آل سعود نے اپنی زمین کا چند کیلومیٹر پر مشتمل ایک حصہ قطر کو بخش دیا۔

"ابو الخفوس" نامی علاقے پر بھی دونوں ممالک کے درمیان 1965 سے لے کر اب تک اختلاف موجود ہے۔ یہ علاقہ اس راستے پر آکر ختم ہوتا ہے جہاں آل سعود نے اپنا فوجی اڈہ "خورالعدید" بنایا ہوا ہے۔

خور العدید ایک چھوٹی سی جھیل ہے جو سعودی حکومت کے زیر تسلط آنے سے پہلے متحدہ عرب امارات کے قبضے میں تھا۔ یہ علاقہ قطر کے لئے اس لئے بھی اہم ہے کہ قطر اس راستے سے اپنے سب سے بڑے کاروباری شریک متحدہ عرب امارات سے منسلک ہوتا ہے۔ اور قطری عوام کا خیال ہے کہ اس علاقے پر آل سعود کے تسلط کا مطلب یہ ہے کہ قطر کا زمینی رابطہ صرف سعودی عرب سے رہ جائے اور وہ متحدہ عرب امارات سے جڑنے کے لئے آل سعود کا محتاج ہو۔

قطر اور آل سعود کے درمیان اختلافات کا ایک سبب "جزیرہ حالول" بھی ہے۔ مھزم، العد الشرقی اور تیل کے دیگر کنویں اور ذخائر یہاں موجود ہیں یہ علاقہ تیل کی دولت سے مالامال ہے۔

ایک اور اختلاف کا سبب خور العدید علاقہ ہے جو اپنی خوبصورتی اور پرفضا مقامات کے سبب "جواہر خلیج" کہلاتا ہے۔

قطر اور آل سعود کے درمیان 1974 کے معاہدے پر بھی اختلافات موجود ہیں جو آل سعود اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہوا تھا۔

ان اختلافات میں 1997 میں قطر کے ذریعے سعودی نژاد 4 ہزار افراد کی شہریت کا منسوخ کیا جانا اور خلیج تعاون کے 16ویں اجلاس میں اس کونسل کے سربراہ کی تقرری پر آل سعود اور قطر کا شدید اختلاف بھی شامل ہیں۔

بہر حال قطر شام میں اپنی کارکردگی کے سبب مشکلات کا شکار ہو گیا ہے اور وہ اپنے آپ کو دنیائے عرب کا واحد پرامن ملک  ثابت کرنے کے لئے سعودی عرب کو مشکلات میں گرفتار دکھانے کی کوشش کر رہا ہے البتہ سعودی عرب بھی اپے حریف سے کہاں پیچھے ہٹنے والا ہے وہ بھی قطرکی زبوں حالی بیان کرنے کے لئے اس ملک کے حکمران خاندان کی آپسی رسہ کشی کو اپنے چینلز پر دکھاتا رہتا ہے، آل سعود قطر کی بدلتی سیاست اور اپنے خاندان میں حکومت کے لئے چلتی رقابت کو چھپانے کے لئے قطر کی بدامنی کو تہہ دل سے قبول کرتے ہیں اور ریاض نے قطر کے داخلی حالات کو مناسب سمجھتے ہوئے اپنے چینلز پر خبریں شائع کرکے اپنے لئے سازگار ماحول بنانے کی پوری کوشش کی۔

خطے میں اثر و رسوخ رکھنے والے اور قطری نظریہ کو پیش کرنے والے چینل الجزیرہ کے اثر کو ختم کرنے کے لئے آل سعود نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا ہے کیوںکہ یہ چینل کئی بار آل سعود کے لئے مشکل کھڑی کر چکا ہے۔

ایران کا رد عل

ایران نے اس پورے مسئلہ پر فریقین کو گفتگو کی دعوت دی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اس سلسلے میں ترکی، انڈونیشیا، عراق، عمان، تیونس، ملائیشیا، لبنان، الجزایر، کویت اور قطر کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔

انہوں نے اس مشکل کو وسعت پیدا کرنے سے روکنے کے لئے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی ہائی کمشنر فیڈریکا موگرینی سے بھی بات چیت کی۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پورے ڈرامے کا مقصد صرف قطر کے دل میں خوف و ہراس پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

نتیجہ

تمام پہلووں کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اس بات کا امکان نہ ہونے کہ برابر ہے کہ یہ مسئلہ اس خطے کے لئے ایک بحران اور مشکل کی شکل اختیار کر جائے۔ یہ مسئلہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ خود ہی ختم ہو جائے گا۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان تمام ممالک نے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے دہشت گردی کی حمایت کی ہے۔

اس ڈرامے کے ذریعے یہ اپنا ہی ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کہ کس ملک نے کس دہشت گرد تنظیم کی کتنی مدد کی ہے اور انہوں نے لیبیا، شام اور یمن میں کیا کیا گل کھلائے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں