لشکر فاطمیون کی عراق اور شام کی مشترکہ سرحد تک رسائی؛ قاسم سلیمانی کے ہمراہ نماز شکر + خصوصی تصاویر

افغانستان سے تعلق رکھنے والے حضرت بی بی زینب سلام علیہا کے حرم کے مدافعین پر مشتمل فورس فاطمیون عراق اور شام کی مشترکہ سرحد تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی ہے جبکہ انہوں نے اس موقع پر ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کے ہمراہ نماز شکرانہ ادا کی۔

لشکر فاطمیون کی عراق اور شام کی مشترکہ سرحد تک رسائی؛ قاسم سلیمانی کے ہمراہ نماز شکر + خصوصی تصاویر

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق افغانستان سے تعلق رکھنے والے حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر کا دفاع کرنے والے فاطمیون نامی لشکر نے گزشتہ ماہ عراق اور شام کی مشترکہ سرحد کی جانب پیش قدمی کا آغاز کیا تھا۔

فاطمیون بریگیڈ اور مزاحمت کے دیگر اتحادی افواج کی بے پناہ کوششوں کے بعد یہ فورسز دو روز قبل امریکی فضائی حملوں سے بچتے ہوئے عراق اور شام کی مشترکہ سرحد پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

واضح رہے کہ عراق اور شام کی مشترکہ سرحد 600 کیلومیٹر پر محیط ہے جن میں سے 400 کیلومیٹر سرحد موصل آپریشن سے قبل داعش کے قبضے میں تھی۔

 میدان جنگ میں عراق اور شام کی سرحد تک پیش قدمی کا مطلب دراصل موصل کے مشرقی حصے سے داعش کا مکمل تخلیہ ہے۔

عراق اور شام کی سرحد پر پہنچنے سے دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں چھپے داعشی درندوں کا رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوجائیگا۔

تاہم فی الحال امریکہ اور اس کے ماتحت گروہوں کی شامی افواج اور اس کے اتحادیوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی اس بات پر ہے کہ شام کی جنوبی سرحد پر کس کا تسلط ہونا چاہئے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری