سوشل میڈیا صارف کی سزائے موت ختم کی جائے، ایمنسٹی کا پاکستان سے مطالبہ

خبر کا کوڈ: 1436128 خدمت: دنیا

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ "فیس بک" پر مبینہ توہین آمیز مواد پوسٹ کرنے پر جس شخص کو موت کی سزا سنائی گئی ہے، اُسے ختم کیا جائے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق گزشتہ ہفتے بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ایک شخص تیمور رضا کو انسداد دہشت گردی کی ایک ضلعی عدالت نے "فیس بک" اور "واٹس ایپ" پر توہین آمیز مواد پوسٹ اور شیئر کرنے پر موت کی سزا سنائی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی کو مبینہ طور پر توہین آمیز مواد ’’آن لائن‘‘ شیئر کرنے پر موت کی سزا سنانا، انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ایک خطرناک مثال ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں یہ پہلا موقع ہے کہ سائبر کرائم کے تحت کسی شخص کو ’توہین آمیز‘ مواد پوسٹ یا شیئر کرنے پر موت کی سزا سنائی گئی ہو۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک مبہم قانون کو آزادی اظہار کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’بائیٹس فار آل‘ سے وابستہ فرحان حسین نے کہا کہ سوشل میڈیا پر مبینہ توہین آمیز مواد پوسٹ کرنے پر سزا دینا ایک خطرناک رجحان ہو سکتا ہے۔

انہوں نے اپنے موقف کیی وضاحت میں کہا کہ یہاں پر بہت سے امکانات ہیں کہ کسی کو غلط بھی پھنسایا جا سکتا ہے، کیوںکہ سوشل میڈیا ایسی چیز ہے کہ ہم روز سنتے ہیں کہ لوگوں کے اکاؤنٹ ہیک ہو جاتے ہیں، لوگوں کی ذاتی معلومات چوری کر کے جعلی اکاؤنٹ بنا لیے جاتے ہیں، ایسی صورتحال میں لوگوں کو پھنسانا کافی آسان ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اگرچہ توہین مذہب کے جرم پر عدالتوں سے سزائیں تو سنائی جاتی رہی ہیں لیکن تاحال کسی کی سزا پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر مذہب کے حوالے سے کسی توہین آمیز پوسٹ یا شئیر کرنے کی پاداش میں سنائی جانے والی یہ پہلی سزائے موت ہے۔

یاد رہے کہ دسمبر 2016 میں ایمنسٹی انٹرنیشل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان میں توہین مذہب کا قانون عموماً مذہبی اقلتیوں اور دوسروں کو ہدف بنانے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔

تاہم حکومت کا موقف رہا ہے کہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکا جائے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی تاہم آزادی اظہار کے نام پر کسی کو مادر پدر آزاد نہیں چھوڑا جا سکتا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری