قطر کو فلسطین کی مدد کرنے پر تنہا کیا جا رہا ہے، علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی

خبر کا کوڈ: 1436723 خدمت: پاکستان
علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی

جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کراچی کے صدر نے کہا ہے کہ فلسطین کی حمایت میں قطر کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں، اسرائیل ایک جعلی ریاست ہے جسے امریکہ اور اس ک حواری باقی رکھنا چاہتے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کراچی کے صدر علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی نے کہا کہ آج جتنی بھی دہشتگردی اسلام کے روشن چہرے کو مسخ کرنے کیلئے کی جاری رہی ہیں، ان سب کا مقصد دنیا کی توجہ اہم ترین مسئلہ فلسطین کی طرف سے ہٹانا ہے، وہ دہشتگردانہ کارروائیاں داعش کے نام پر ہوں، القاعدہ کے نام پر ہوں، النصرہ کے نام پر ہوں یا دیگر مصنوعی ناموں پر ہوں، یہ تمام دہشتگردانہ کارروائیاں دراصل صہیونی سازشوں کے تحت کی جاتی ہیں، کوئی بھی ملک مظلوم فلسطینیوں کی مدد کیلئے آگے بڑھتا ہے، تو اسے خانہ جنگی کا شکار کرکے تباہ و برباد کر دیا جاتا ہے، شام میں حماس سمیت دیگر آزادی فلسطین کی تحریکیں اپنا مرکز قائم کرنے میں کامیاب ہو چکی تھیں اور وہاں سے وہ فلسطینیوں کی آواز میں آواز ملاتے تھے، تو شام کے اندر خانہ جنگی پیدا کر دی گئی۔

مسئلہ فلسطین نے انسانیت کو مضطرب کر رکھا ہے، جو دنیا کے حکمرانوں کی خاموشی کے باعث جاری و ساری ہے، جمہوریت، حقوق انسانی، انسانی اقدار کی بات کرنے والی دنیا کی قوتوں کے سامنے جب مسئلہ فلسطین کا ذکر آتا ہے، تو ان کے سارے اصول ختم ہو جاتے ہیں، ان کی ساری انسانی ہمدردیاں مٹ جاتی ہیں اور سرزمین مقدس فلسطین پر قابض صہیونی جعلی ریاست اسرائیل کی مدد و حمایت ہی ان کا شیوہ نظر آتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں بھی یہی صہیونی سازشیں کی گئیں، اس کے ساتھ ساتھ جو ممالک فلسطین کیلئے آواز بلند کر سکتے ہیں انہیں پہلے ہی خاموش کرا دیا گیا، اب قطر کے ساتھ بھی یہی سازشیں کی جا رہی ہیں، ان سازشوں میں امریکا اور اسکے حواری شریک ہیں جو ہر حال میں اسرائیل کو باقی رکھنا چاہتے ہیں، کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ آخر مسلم حکمراں مسئلہ فلسطین پر آواز بلند کیوں نہیں کرتے؟ کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ ریاض کانفرنس کے اندر مسئلہ فلسطین کے حل کے حوالے سے بات کیوں نہیں کی گئی؟ آخر اس ریاض کانفرنس میں ایسی کیا خوبی تھی کہ ہفتے کو ریاض کانفرنس ہوتی ہے تو اگلے روز امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل پہنچ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں تو فقط مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کیلئے گیا تھا،تم اپن کام جاری رکھو، جب تک مسلمان اپنے سربراہوں کے انتخاب میں فعالیت کا مظاہرہ نہیں کرینگے، دردمند لوگوں کو آگے نہیں لائیں گے، نام نہاد مسلم سربراہ اسی طرح مسئلہ فلسطین، مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالتے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان لکیر کے ایک طرف صہیونیت کے خلاف کھڑے ہیں اور ان کے حکمران لکیر کی دوسری طرف امریکا کے حواری کا کردار ادا کر رہے ہیں، کیا فلسطین کا بہتا ہوا لہو اتنا ارزاں ہے کہ اس کیلئے آواز بھی بلند نہیں کی جا سکتی؟ وہ دن دور نہیں کہ جب اسرائیل نابود ہوگا اور بے گھر مظلوم فلسطینی اپنے گھروں کی طرف لوٹیں گے۔

    تازہ ترین خبریں