نیکٹا کو سپاہ صحابہ کی سرگرمیوں پر تشویش

خبر کا کوڈ: 1437116 خدمت: اسلامی بیداری
سپاه صحابه پاکستان

نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی نے سندھ کے محکمہ داخلہ کو تحریری طور پر اپنی اس تشویش سے آگاہ کیا ہے کہ سندھ میں کالعدم شدت پسند تنظیم سپاہ صحابہ کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی نے سندھ کے محکمہ داخلہ کو تحریری طور پر اپنی اس تشویش سے آگاہ کیا ہے کہ سندھ میں کالعدم شدت پسند تنظیم سپاہ صحابہ کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے لیے بنائے گئے ادارے نیکٹا کے مطابق اندرون سندھ میں سپاہ صحابہ نے سنی رابطہ کمیٹی کے نام سے اپنے منشور، جھنڈے اور قیادت کے ساتھ سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

نیکٹا نے تنظیم کی سرگرم قیادت کی بھی نشاندہی کی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ سپاہ صحابہ کے صوبائی نائب صدر مولانا منظور سولنگی قمبر شہداد کوٹ میں سنی رابطہ کمیٹی کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ حافظ محمد ریاض میمن، اشرف میمن اور الیاس فاروقی ضلعہ سجاول میں آرگنائزر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

مولانا منظور سولنگی بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں اور تقریباً 20 سال قبل وہ شہداد کوٹ منتقل ہوئے تھے، جہاں وہ کچھ مدارس کے منتظم بھی ہیں۔

واضح رہے کہ ان میں سے ایک مدرسہ سرکاری سکول کی عمارت کے اوپر اور ایک قبرستان کے پلاٹ پر تعمیر کیا گیا ہے۔ ان مدارس میں سندھ اور بلوچستان کے طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ اسی طرح سجاول میں حافظ محمد ریاض میمن، اشرف میمن اور الیاس فاروقی مقامی سیاست میں سرگرم ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد ملک میں شدت پسندی کی روک تھام کے لیے قومی ایکشن پلان تشکیل دیا گیا تھا۔

صوبائی حکومت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ سنی رابطہ کمیٹی کی سرگرمیاں قومی ایکشن پلان کی خلاف ورزی ہیں جس کے شق سات کے مطابق کالعدم تنظیموں کے دوبارہ فعال ہونے پر پابندی ہے۔

    تازہ ترین خبریں