عزاداری ہماری روح، زندگی، ایمان ہے، قربانی دے کر محفوظ رکھیں گے، علامہ ساجد نقوی

خبر کا کوڈ: 1437402 خدمت: اسلامی بیداری
ساجد نقوی

ساجد علی نقوی نے ایام امام علی علیہ السلام کے آغاز پر کہا کہ حکومت عزاداری میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہے، عزاداری کےانعقاد کے لیے ڈپٹی کمشنر تو کیا، صدر مملکت سے بھی اجازت کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق شیعہ علماء کونسل لاہور کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے اتحاد امت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کو مذہبی جماعتیں اپنی صفوں سے نکال باہر کریں، تاکہ مسالک کے درمیان مشترکات کو فروغ دیا جا سکے، پاکستان علیحدہ وطن کے قیام کے مقاصدسے دور ہوچکا ہے، ملک کو واپس پٹڑی پر لانے کیلئے قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ سنی شیعہ محب اہلبیت اور حسینی ہیں، ان کا ایک دوسرے کیخلاف فرقہ وارانہ باتیں کرنا مناسب نہیں، اتحاد امت کی فضا کو بہتر بنانے اور اسلامی مکاتب فکر کے درمیان موجود مشترکات کو فروغ دینا چاہیے۔

علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اتحاد و وحدت کی فضا قائم کرنے میں ان کا بنیادی کردار ہے، یہاں ٹارگٹ کلنگ میں بیگناہ افراد کا قتل عام کیا گیا، مگر ہم نے کسی مسلک و مذہب پر الزام عائد نہیں کیا، کیونکہ قاتل گروہ خریدے گئے لوگوں پر مشتمل تھا، جو کسی مسلک کی نمائندگی نہیں کرتے۔

علامہ ساجد نقوی نے اتحاد بین المسلمین کی فضا کو مزید بہتر بنانے کیلئے مشترکہ پروگرام منعقد کروانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ باہمی محبت و اخوت کو مزید فروغ دیا جائے، کسی مسلک کی توہین جائز نہیں، مسالک کے درمیان مشترکات پر اتفاق کروانے میں ہمارا بنیادی کردار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان علیحدہ وطن کے مقاصد سے ہٹ چکا ہے، علماء کرام نے اسلامی نظریاتی کونسل کے پلیٹ فارم سے مشترکہ سفارشات دے کر اس اعتراض کو بھی ختم کر دیا ہے کہ کس مسلک کا اسلام نافذ ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ دینی جماعتوں کو انسانی اقدار، بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اس کیلئے کارکنوں کی نظریاتی اور فکری تربیت ہونی چاہیے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے مسالک کو فروعی اختلافات میں سازش کے تحت الجھایا گیا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری