چابھار آپریشن کی تفصیلات سامنے آگئیں/ بعض دہشتگردوں کی پاکستان آمد و رفت کا انکشاف

خبر کا کوڈ: 1437457 خدمت: ایران
سربازان گمنام

گورنر صوبہ سیستان و بلوچستان کے سیکورٹی مشیر نے کہا ہے کہ ہم پاکستان سے چاہتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگردوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہ دے جہاں وہ اپنے ٹھکانوں میں امن سے رہیں کیونکہ ایسے اقدامات دونوں ممالک کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کی سیکورٹی کونسل کے ترجمان علی اصغر میر شکاری نے چابھار میں دہشتگرد گروہ "انصار الفرقان" کیخلاف آپریشن کی تفصیلات جاری کردیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حساس اداروں کی مدد سے چابھار میں دہشتگرد گروہ انصار الفرقان کی شناخت ہوئی جبکہ سیکورٹی فورسز نے کسی بھی قسم کی کوتاہی کے بغیر اس گروہ کو گھیر لیا اور کارروائی کا آغاز کرکے دہشتگردوں کیساتھ شدید جھڑپ ہوئی جس میں 2 افراد ہلاک اور 5 گرفتار ہوئے ہیں۔

میرشکاری کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں جو گزشتہ شام کو شروع ہوئی اور کئی گھنٹے تک جاری رہی، میں 5 افراد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ وزارت انٹیلی جنس کا ایک اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس آپریشن کے دوران کئی خودکش جیکٹ سمیت وافر مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد بھی ضبط کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود کہ اس گروہ کو سعودی عرب کی مالی اور فکری حمایت حاصل ہے، تاہم حساس اداروں کے نوجوانوں کی شجاعت، سیکورٹی فورسز اور عوام کی جانب سے بہترین تعاون کے نتیجے میں نظام اسلامی کیخلاف دشمن بالخصوص تکفیری وہابی گروہوں کی سازشیں خاک میں مل گئی ہیں۔

سیستان و بلوچستان کی سیکورٹی کونسل کے ترجمان نے مزید کہا کہ ہم پاکستان سے چاہتے ہیں کہ وہ دہشتگردوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران اپنے جنوب مشرقی ہمسائے سے امید رکھتا ہے کہ وہ اپنی ہمسایگی کا حق ادا کرتے ہوئے تاریخی، ثقافتی، قومی اور اقتصادی روابط پر آنچ نہ آنے دے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ پاکستانی سرزمین میں دہشتگردوں کے ٹھکانے ہوں اور وہ اس ملک کو اپنے لئے پرامن جگہ قرار دیں اور وہاں محفوظ زندگی گزار سکیں کیونکہ ایسے اقدامات دونوں ممالک کے مستحکم تعلقات اور بہترین ہمسایگی پر گہرے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری