نواز شریف اور عمران خان کے اثاثوں میں مسلسل کمی

خبر کا کوڈ: 1437875 خدمت: پاکستان
نواز و عمران

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی ارکان پارلیمنٹ کے مالی اثاثوں کی تفصیلات کے مطابق 2013 کی نسبت وزیراعظم نواز شریف کے اثاثوں میں مسلسل دوسری بار کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ 2012 میں وزیراعظم کے اثاثوں کی مالیت 26 کروڑ 16 لاکھ روپے تھی تاہم تیسری بار وزیراعظم منتخب ہونے کے پہلے ہی سال ان کے اثاثوں میں 66 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا اور 2013 میں ان کے اثاثوں کی مالیت 1 ارب 82 کروڑ روپے تک جاپہنچی اور وہ پہلی بار اعلانیہ ارب پتی بن گئے۔

2014 میں ان کے اثاثے 2 ارب روپے سے تجاوز کرگئے تاہم 2015 میں اس مالیت میں کمی سامنے آئی اور ان کے اثاثے 1 ارب 96 کروڑ روپے ہوگئے۔

واضح رہے کہ 2011 میں نواز شریف 16 کروڑ 60 لاکھ روپے مالیت کے اثاثوں کے مالک تھے۔

ای سی پی کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کی تازہ ترین تفصیلات جمعرات (15 جون) کو جاری کی گئیں، جس کے مطابق 30 جون 2016 کو اختتام پذیر ہونے والے سال میں نواز شریف کے اثاثے مزید کم ہو کر 1 ارب 72 کروڑ ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ چار سال کے دوران وزیراعظم اپنے بڑے بیٹے حسین نواز سے بھاری ترسیلات زر وصول کرتے رہے ہیں۔

ان چار سالوں کے دوران صرف 2013 وہ سال تھا جب انہیں 20 کروڑ سے کم رقم یعنی 19 کروڑ 75 لاکھ روپے موصول ہوئے، 2014 میں وصول رقم کی مالیت 23 کروڑ 90 لاکھ، جبکہ 2015 میں وصول رقم کی مالیت 21 کروڑ 50 لاکھ روپے رہی تھی۔

حالیہ تفصیلات کے مطابق 2016 میں انہوں نے اپنے بیٹے سے 23 کروڑ 40 لاکھ روپے وصول کیے۔

ای سی پی کی جاری کردہ معلومات کے مطابق نواز شریف ایک ٹویوٹا لینڈ کروزر، جو انہیں کسی نے تحفے میں دی تھی اور دو مرسڈیز کاروں کے مالک ہیں۔

جس گھر میں وزیراعظم رہائش پذیر ہیں وہ ان کی والدہ کی ملکیت ہے جبکہ ان کے متعدد ملکی اور غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس بھی ہیں۔

وزیراعظم کی زرعی اراضیوں کے ساتھ شوگر، ٹیکسٹائل اور پیپر ملز جیسے کئی صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری بھی ہے۔

2015 میں نواز شریف نے پہلی بار پرندوں اور جانوروں کی ملکیت ڈکلیئر کی جن کی قدروقیمت 50 لاکھ ہے۔

وزیراعظم نے رائے ونڈ جائیداد کی قمیت 40 لاکھ روپے اور اپر مال لاہور میں جائیداد کی قیمت 25 کروڑ روپے ظاہر کی۔

عمران خان

وزیراعظم نواز شریف کے روایتی حریف اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کے اثاثے بھی ان ہی کی طرح کم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق عمران خان 1 ارب 40 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں جن میں گذشتہ 5 سال کے دوران تیزی سے اضافہ سامنے آیا تھا۔

2012 میں عمران خان کے اثاثے محض 22 کروڑ 90 لاکھ روپے تھے اور ان پر 0.38 ملین کے واجبات تھے۔

2013 میں ان کے اثاثوں کی مالیت 140 لاکھ تھی جو 2014 میں 330 لاکھ روپے سے زائد ہوئی تاہم 2015 میں وہ 1 ارب 33 کروڑ روپے کے اثاثوں کے ساتھ ارب پتی افراد کی فہرست میں شامل ہوگئے۔

بنی گالہ میں ان کی 300 کنال کی رہائش گاہ کی مالیت 75 کروڑ ہے جسے انہوں نے الیکشن کمیشن کے سامنے 'تحفہ' ظاہر کیا ہے۔

عمران خان نے خان ہاؤس میں دفتر کی مالیت 59 لاکھ روپے جبکہ بنی گالہ کے گرد باؤنڈری وال کی مالیت 69 لاکھ روپے ظاہر کی ہے، جبکہ وراثت میں ملنے والے زمان پارک گھر کی مالیت 29 کروڑ 60 لاکھ روپے ظاہر کی ہے۔

گوشواروں کے مطابق عمران خان نے 4 کروڑ 87 لاکھ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، ان کے پاس 6 لاکھ روپے کا فرنیچر اور 2 لاکھ روپے مالیت کی چار بکریاں بھی ہیں۔

2016 میں اپنے نام پر رجسٹرڈ گاڑی فروخت کیے جانے کے بعد عمران خان کے استعمال میں ذاتی کوئی گاڑی نہیں۔

امیر ترین ارکان پارلیمنٹ

تاہم اثاثوں میں ہونے والی اس کمی کے باجود بھی نواز شریف 1 ارب 72 کروڑ روپے اور عمران خان 1 ارب 40 کروڑ روپے کے ساتھ امیرترین ارکان پارلیمنٹ ہیں۔

دیگر ارب پتی اراکین میں وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی، پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین، اور خیبرپختونخوا کے ارکان خیال زمان اور ساجد حسین طوری شامل ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری