امریکی سینیٹ کی قرار داد پر قاسمی کا رد عمل؛

نئی پابندیاں ایران سے امریکہ کی ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے

خبر کا کوڈ: 1438325 خدمت: ایران
بهرام قاسمی

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا کہ ایٹمی معاہدے کی نگران کمیٹی ملکی مفادات کے حصول کی خاطر ان پابندیوں کے خلاف مناسب اقدام اٹھائے گی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے امریکی سینیٹ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد کی منظوری پر رد عمل ظہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سینیٹ کی جانب سے ماضی کے اقدامات اور ایران مخالفت نیز ایرانی عوام سے ان کی ذاتی دشمنی کے پیش نظر ان کے اس اقدام پر کوئی تعجب نہیں ہے۔

انہوں نے تاکید کی کہ یہ ایران سے ان کی ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے عالمی ایٹمی معاہدے کی رو سے امریکی حکومت کے کچھ فرائض ہیں جنہیں پوری ایمانداری اور نیک نیتی سے انجام دیا جانا چاہئے ملک کے داخلی مسائل اور قوانین کو بہانہ بنا کر کوئی حکومت ان فرائض کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔

جس طرح ایران اس معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے جس کی تصدیق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے بھی کی ہے، اسی طرح اس معاہدے کے تمام فریقین کو اس کی پابندی کرنی چاہئے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم امریکی سینیٹ کی قرارداد اور اس پر عمل در آمد کے پورے منظر نامہ کو زیر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ملکی مفاد کے مطابق ہر قدم اٹھائیں گے۔

اس قرارداد میں ایران کی افواج اور میزائل پروگرام کے لئے جو باتیں بھی کی گئی ہیں وہ سب غیر قانونی ہیں، ہم اس بات کو صراحت کے ساتھ بیان کر رہے ہیں کہ ایرانی افواج پوری طاقت اور توانائی کے ساتھ اپنی ملکی حدود کی حفاظت میں مصروف رہیں گی اور ایسے اقدامات ان کے اہداف میں ذرا بھی رخنہ اندازی نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے اور اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 سے کوئی تضاد نہیں رکھتا، کوئی بھی عمل ہمیں ہمارے قانونی حق سے روک نہیں سکتا۔

قاسمی نے وضاحت کی کہ امریکی سینیٹ نے ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے لئے ایک قرار داد کو مںظوری دی ہے جس کی رو سے امریکی حکومت 90 دن کے اندر اندر ایران کے میزائل پروگرام میں شریک افراد اور تنظیموں پر پابندی عائد کریگا۔

اس قرارداد کے مطابق ایران کی سپاہ پاسداران فورس بھی امریکی پابندیوں کی زد میں ہوگی۔ اس قرارداد پر دستخط کی صورت میں یہ پہلا موقع ہوگا جب سپاہ پر امریکی پابندی عائد ہوگی۔

یاد رہے کہ اس پہلے امریکہ 2007 میں سپاہ پاسداران کی قدس بریگیڈ پر پابندی عائد کر چکا ہے۔

امریکی سینیٹ کے مطابق اس قرارداد کے تین اہم مقاصد ہیں؛

بیلیسٹک میزائل پابندی؛ ایران کے میزائل پروگرام اور اس سے جڑے افراد اور تنظیمیوں پر پابندی لگائی جائے گی۔

دہشت گردی پر پابندی؛ دہشت گردی کے الزام کی آڑ میں پہلی بار امریکہ ایران کی سپاہ پاسداران فورس پر پابندی لگانے میں کامیاب ہوگا۔

اسلحہ پابندی؛ اگر یہ قرارداد قانون میں تبدیل ہوگئی تو امریکہ ایران کے ان افراد پر جو اسلحہ، اسلحوں میں استعمال ہونے والے اجزاء، جنگی ہیلی کاپٹر، جنگی طیارے، میزائل، جنگی کشتی اور دیگر جنگی ساز و سامان کی ساخت و ساز اور خرید و فروش سے منسلک ہیں، پابندی عائد ہوگی اور ان کے تمام اثاثے منجمد کئے جائیں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری