امریکی سینیٹر: نئی پابندیاں ایران ایٹمی معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں

خبر کا کوڈ: 1438369 خدمت: دنیا
برنی سندرز

ایران پر نئی پابندیاں لگانے کی مخالفت کرنے والے دو سینیٹروں میں سے ایک نے بیان جاری کرتے ہوئے صراحت سے کہا ہے کہ اگر اس قرارداد پر عملدرآمد ہوا تو ایران کے ساتھ ہونے والا ایٹمی معاہدہ مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکی سینیٹر برنی سینڈرس نے کہا ہے کہ یہ پابندیاں ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدہ کو مشکلات میں ڈال سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ برنی سینڈرس اور ران پال سینیٹ میں ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے مخالفت میں ووٹ دینے والے صرف دو سینیٹر تھے۔

سینڈرس نے کہا کہ وہ امریکی انتخابات میں مداخلت کے لئے روس پر لگائی جانے والی پابندیوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن ایران پر عائد کردہ پابندیوں کے سخت مخالف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کی آل سعود اور اس کے ہمنوا ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اس بات کا احتمال کم ہی ہے کہ یہ پابندیاں کارگر ثابت ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے میں نے کئی بار ایران پر پابندیاں لگانے کے حق میں ووٹ دیا ہے کیوںکہ میں سمجھتا ہوں کہ ایران کو مذاکرات کے لئے آمادہ کرنے کے لئے یہ ایک بہترین راستہ تھا لیکن میرا خیال ہے کہ ایران پر عائد ہونے والی نئی پابندیاں ایران، امریکہ اور دیگر ممالک کے درمیان طے پانے والے ایٹمی معاہدے کے لئے مشکلات پیدا کر دے گا۔

اگرچہ امریکی حکام نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ نئی پابندیوں سے ایٹمی معاہدے کی خلاف وررزی نہیں ہوتی لیکن امریکہ کی سابق حکومت کے کارکنوں نے متعدد بار اس بات کو دہرایا ہے کہ یہ پابندیاں ایٹمی معاہدے کے لئے مشکلات کا سبب بن سکتی ہیں۔

اس قرارداد کی رو سے ایران کی سپاہ پاسداران فورس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے گا جو ایران سے تعلقات کی بحالی کی راہ میں مشکلات کا باعث ہوگا جو ایٹمی معاہدے کے شق نمبر 26 اور 29 کی صریح خلاف ورزی ہے۔

امریکہ کی ایٹمی مذاکراتی ٹیم کے رکن ریچرڈ نفیو نے ہافنگٹن پوسٹ کو دئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ سپاہ پاسداران ایران کے اکثر تجارتی معاملوں میں شریک ہے۔ نئی پابندیاں غیرملکی کمپنیوں کو ایران سے کاروباری معاملات کرنے سے روکنے کا باعث بنیں گی جو ایران سے پابندیاں ختم کرنے کے ایٹمی معاہدے میں موجود شرائط کی کھلی خلاف ورزی ہے جس پر عملدرآمد کرنے کا ایران سے وعدہ کیا گیا ہے۔

    تازہ ترین خبریں