ہیومن رائٹس واچ: مصر میں آزادی کو کچلنے کی کوششیں عروج پر

خبر کا کوڈ: 1438470 خدمت: دنیا
دیده بان حقوق بشر

ہیومن رائٹس واچ نے مصر میں آزادی کو کچلنے کیلئے جاری پر تشدد کارروائیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن ہیومن رائٹس واچ نے اعلان کیا ہے کہ مصر میں آزادی کو کچلنے کیلئے حکومتی کوششیں اپنے عروج پر ہیں۔

اس تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ مصری حکومت نے گزشتہ چند ہفتوں میں ہی 50 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے اور کئی انٹرنیٹ سائٹ پر پابندی عائد کی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق مصری حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین کو حکومت کے اقدامات اور رویے پر اعتراض کرنے کے الزام میں کئی لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

مصری حکومت نے الجزیرہ، ہافنگٹن پوسٹ سمیت کئی سائٹوں پر شدت پسندی کو بڑھاوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے پابندی عائد کر دی ہے۔

چند روز قبل بھی مصری حکومت نے صنافیر اور تیران جزیروں کو سعودی عرب کو سونپنے کی مخالفت کرنے والے سینکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔

انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی مختلف تنظیموں کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں سیاسی قیدی مصر کی جیلوں میں بند ہوچکے ہیں۔

2013 میں مرسی کی معزولی کے بعد سے مصری حکومت نے اب تک کم از کم 1400 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے اور 15 ہزار سے زائد اسلامی حکومت کے طرفداروں کو قیدی بنا لیا ہے جو مرسی کے حامی تھے۔

اب تک مرسی کے طرفدار سینکڑوں افراد کو مختلف مقدموں میں پھنسا کر موت کی سزا سنائی گئی ہے جس کے بارے میں اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ اس اقدام کی حالیہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

ہیومن رائٹس واچ نے السیسی حکومت کو حسنی مبارک سرکار سے زیادہ ظالم اور تشدد پسند کہا ہے۔

    تازہ ترین خبریں