غزہ میں وہ ایرانی سپاہی جس کی نظریں وطن کی یاد میں دھندلا گئی ہیں + ویڈیو

خبر کا کوڈ: 1439119 خدمت: ایران
غزہ میں فلسطینی شہری

اپنے وقت میں قابل فخر اور بھرپور زندگی بسر کرنے والا ایک ایسا ایرانی سپاہی جو اپنی عمر کا آخری حصہ فلسطین میں غربت اور گمنامی کے اذیت ناک اندھیروں میں گزارنے پر مجبور ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں ایک ایسا گم نام سپاہی بھی رہتا ہے جو فلسطینی لیڈر یاسر عرفات مرحوم کے مقرب خاص رہے مگر آج وہ حالات کی چکی میں پس رہا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین رپورٹ میں اس ستم رسیدہ فلسطینی کفن پوش اور گوشہ گمنامی میں زندگی گذارنے والے قاسم شیاصی المعروف’ ایرانی‘ کے حالات و واقعات پر روشنی ڈالی ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کی زبانی ایک غم رسیدہ، عمر رسیدہ اور ستم رسیدہ ایرانی سپاہی قاسم شیاصی کے احوال ملاحضہ فرمائیے۔

رپورٹ کے مطابق 80 سالہ ’ایرانی‘ اس وقت غزہ کی پٹی میں نہر البارد پناہ گزین کیمپ میں مقیم ہیں۔ غزہ کے مغربی علاقے خان یونس میں واقع اس کیمپ کے دیگر باشندوں سے قاسم شیاصی اس لیے منفرد ہیں کہ وہ اگرچہ عربی بولتے ہیں مگران کا خاندانی پس منظر ایرانی ہے۔ پورے کیمپ میں انہیں اپنے مخصوص لب ولہجے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔

غزہ کی پٹی میں نہر البارد پناہ گزین کیمپ میں مقیم 80 سالہ ایرانی سپاہی قاسم شیاصی عربی میں بات چیت کر لیتے ہیں تاہم ان کا لہجہ فارسی ہے اور چہرے مہرے سے بھی وہ عربی نہیں لگتے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کی ٹیم نے قاسم شیاصی المعروف ایرانی کےگھر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اس نے اپنی پرانی یاد گار تصاویر نکالیں، اچھے وقتوں میں حاصل کردہ  تمغے اور دیگر انعامی اشیاء بھی دکھائیں۔
اس کے پاس موجود تصاویر میں سابق فلسطینی لیڈر یاسر عرفات مرحوم کے ساتھ کھینچی گئی تصاویر بھی شامل ہیں۔

ایرانی لہجے میں بات کرتے ہوئے قاسم شیاصی نے بتایا کہ اسے یاسر عرفات کے ساتھ وقت گذارنے پر فخر ہے۔
قاسم شیاصی روانی کے ساتھ عربی نہیں بول سکتے تاہم ان کی ایک اہلیہ نے اپنے شوہر کی طرف سے ترجمانی کی۔

شیاصی نے بتایا کہ وہ اپنے آبائی وطن ایران سے لبنان کے سفر پر نکلے۔ جب لبنان کے لیے کوچ کیا تو اس وقت وہ شادی شدہ تھے۔
مگر انہوں نے بیوی بچوں کو ایران ہی میں چھوڑا اور فلسطینی تحریک آزادی کے سپاہی بن کر چل پڑے۔

لبنان میں قیام کے دوران ان کا تعارف تحریک فتح کے بانی رہ نما یاسرعرفات سے ہوا۔ وہ بہت جلد عرفات مرحوم کے انتہائی قریبی حلقے میں شامل ہوگئے اور وہاں سے یمن گئے۔

اپنی نیلی آنکھوں سے بہنے والے آنسو پونچھتے ہوئے ایرانی نے یاس وحسرت کے ساتھ اپنی زندگی کے خوبصورت اور یاد گار دنوں کے واقعات سنائے۔

سنہ 1994ء میں فلسطینی اتھارٹی کےقیام کے بعد وہ اتھارٹی کےایک سپاہی بن کر غزہ منتقل ہوئے۔
فلسطین سے گہرے تعلق کی بنیاد پرانہیں غزہ میں قائم سینٹرل جیل کے محافظ دستے کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

قاسم شیاصی نے بتایا کہ یاسرعرفات کے ساتھ گذرے زندگی کے لمحات ان کے لیے سرمایہ حیات ہیں۔
وہ عرفات مرحوم کے ساتھ بیتے اوقات کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔
انہوں نے یاسرعرفات مرحوم کی تصویر اٹھائی اور اسے چوما اور ساتھ ہی چیخ کر رو پڑے اور کہنے لگے کہ اگر آج ابو عمار [یاسرعرفات] بہ قید حیات ہوتے تو میری یہ حالت ہرگز نہ ہوتی۔


الحاج قاسم شیاصی المعروف ایرانی نے بتایا کہ وہ ایک سابقہ فوجی ہے اور  سروس مکمل کرنے کے بعد اب وہ 2700 شیکل پنشن لیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میرا مکان خان یونس کے علاقے کیسوفیم میں القرارہ قصبے میں تھا جسے صہیونی فوج نے ایک بار دراندازی کے دوران مسمار کرڈالا۔

اس کے بعد وہ در بدر ہے۔
اگرچہ اس نے سرکاری اراضی پر ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنائی ہے مگر وہ مکان تعمیر کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس کی تین بیویاں اور کئی بچے بچیاں ہیں۔ اس پورے خاندان کی کفالت 80 سالہ بوڑھے کے ذمہ ہے۔

جب اس سے اس کی خواہش کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ میں صرف اب موت کی خواہش کرتا ہوں۔
میں جس طرح کی زندگی گذار رہا ہوں وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اس سے موت بہتر ہے۔ وہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ رہ رہا ہے مگر اس کا کوئی بھی پرسان حال نہیں۔

قاسم شیاصی واپس ایران بھی جانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطین سے محبت نے مجھے اپنا ملک، عزیزو اقارب حتیٰ کہ اپنی مادری زبان بھی بھلا دی ہے۔
شیاصی نے اپنا ایرانی پاسپورٹ آج تک سنبھال رکھا ہے۔ شیاصی نے ایرانی حکومت بھی زور دیا ہے کہ وہ اس کی وطن واپسی کے لیے اقدامات کریں جہاں اس کے خاندان کے دیگر افراد بھی موجود ہیں اور جن سے ایرانی کا رابطہ صرف ٹیلیفون کے ذریعے ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری