خصوصی رپورٹ /

وہی رمضان وہی پاکستان؛ کیا 25 سال بعد تاریخ خود کو دہرائے گی؟؟

خبر کا کوڈ: 1439495 خدمت: پاکستان
پاکستان کرکٹ

1992 کے بھی ماہ رمضان میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے پہلی بار ورلڈ کپ فائنل جیت کر پوری دنیا کو حیران کر دیا تھا۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق پاکستانی قوم کرکٹ کی شوقین نہیں، دیوانی ہے۔ یہ وہ قوم ہے جو کھیل کو جنگ سے کم نہیں سمجھتی اور خصوصا جب معرکہ پاکستان اور بھارت کا ہو تو جذبات یوں بھڑکتے ہیں کہ سونے پر سہاگہ ہو جاتا ہے۔

آج پھر وہی صورتحال ہے کہ کرکٹ کے انتہائی اہم میچ میں چند ہی گھنٹوں بعد پاکستان اور بھارت آمنے سامنے ہیں۔

واضح رہے کہ ایک طرف بھارت کی مضبوط ٹیم آج اس اعزاز کا دفاع کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی 2017 کے فائنل تک رسائی کرنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم پچھلی بار اسی ٹورنامنٹ میں ایک بھی میچ جیت نہیں پائی تھی۔

بعض لوگ پاکستان کی فائنل میں رسائی کو ماہ رمضان سے بھی تعبیر کر رہے ہیں اور اگر سوچا جائے تو یہ اتنا غلط بھی نہ ہوگا کیونکہ 25 سال پہلے کا وہ رمضان اکثر اذہان میں تازہ ہے جب ورلڈ کپ 1992 میں پاکستان کا پول میچوں میں ٹورنامنٹ سے باہر ہو جانا یقینی نظر آ رہا تھا لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ قوم کرکٹ کی دیوانی ہے۔

ماہ صیام میں جہاں لوگ رزق، صحت اور لمبی زندگی کی دعا کرتے ہیں، وہیں پاکستان کی مساجد میں پاکستان کے جیتنے کی دعائیں ہونے لگیں، مصلے بچھ گئے، منتیں، مرادیں اور نتیجتا پاکستان نہ صرف ورلڈ کپ کے فائنل میں جا پہنچا بلکہ ٹورنامنٹ کی ہارٹ فیورٹ ٹیم برطانیہ کو پچھاڑ کر ورلڈ کپ جیت لیا۔

آج بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں ہے، کرکٹ کا وہی فائنل ہے، وہی رمضان ہے اور وہی پاکستان۔ البتہ برطانیہ کو پاکستان اس بار سیمی فائنل میں ہی شکست دے چکا ہے اور آج مد مقابل ہے اپنے روائتی حریف بھارت کا۔

معاملہ کچھ کچھ 1947 سے بھی مل رہا ہے کہ جب برطانیہ درمیان سے ہٹ گیا تھا اور پاکستان اور بھارت آمنے سامنے تھے۔

بہرحال آج دیکھنا یہ ہے کہ کیا تاریخ 25 سال بعد خود کو دہرا پائے گی اور کیا پاکستان 25 سال بعد ٹورنامنٹ کی ہارٹ فیورٹ ٹیم کو ہرا پائے گا اور کیا گرین شرٹس 25 سال بعد دنیائے کرکٹ کا اتنا بڑا اعزاز اپنے نام کر پائیں گی؟؟

نوٹ: مصلے بچھ چکے ہیں ۔۔۔!!

    تازہ ترین خبریں