چین کا سلک روٹ، جنوبی ایشیا کی اقتصادی ترقی یا دیوالیہ پن ؟

خبر کا کوڈ: 1439638 خدمت: مقالات
سلک روٹ

چینی عہدیداران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس منصوبے کو پروان چڑھانے کے لئے ان تمام ممالک میں، جہاں سے سلک روٹ گزرے گا، اربوں ڈالر صرف کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: بیجنگ 2013 سے سلک روٹ اور اس کے راستے میں آنے والے ممالک کے باہمی اقتصادی تعاون کے لئے اس عظیم منصوبے کی تکمیل کے لئے سرگرم عمل ہے۔

اس منصوبے کی تکمیل کے لئے چین نے تاحال اربوں انسانوں اور 50 سے زائد ممالک کے ساتھ پروگرامات ترتیب دیکر دسیوں ممالک اور عالمی تنظیموں سے معاہدے بھی کئے ہیں۔

بیجنگ نے 29 ممالک کے دو روزہ اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ اس نے اس منصوبے کے لئے 124 ارب ڈالر مختص کئے ہیں۔

بھارتی، علاقائی اور اقوام متحدہ کے اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ چین کا سلک روٹ منصوبہ جنوبی ایشیا میں اقتصادی رونق کا سبب نہیں ہوگا بلکہ یہ جنوبی ایشیائی ممالک کے دیوالیہ پن کا سبب بھی بنے گا۔

ان افراد کے بقول یہ منصوبہ پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش، اور سری لنکا کی معیشت پر منفی اثرات ڈالے گا اور ان ممالک کے دیوالیہ پن کا باعث بنے گا۔

جنوبی ایشیا اور بحر الکاہل کے لئے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ چین نے سلک روٹ کے اخراجات وصول کرنے کے لئے 16 فیصد منافع وصولنے کا لائحہ عمل مرتب کیا ہے۔ یہ خرچ اور بھاری قرضے ادا کرنا پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال جیسے ممالک کے لئے بہت سخت ہوگا اور انہیں بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبا دے گا۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق چین، سلک روٹ کو صرف اور صرف اپنی کرنسی یوآن کو مضبوط کرنے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ چین اس کوشش میں ہے کہ یوآن کو ڈالر کے متبادل کے طور پر پیش کر سکے اور اس کام کے لئے سلک روٹ بہت اہمیت کا حامل ہے۔

اس کمیٹی نے سلک روٹ کے نقصانات بیان کرتے ہوئے کہا کہ چین کے علاوہ اس روٹ سے جڑنے والے ممالک کی مجموعی معیشت اس منصوبے سے بہت کم ہے یہ منصوبہ ان ممالک کو بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبا دے گا۔

ماہرین اقتصاد کے مطابق چین نے پاکستان میں 46 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی ہے جو اس کی مجموعی جی ڈی پی کا پانچواں حصہ ہے اسی طرح چین نے بنگلہ دیش میں 24 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی ہے جو اس کی مجموعی جی ڈی پی کا 20 فیصد ہے۔

چین نے سری لنکا میں بھی بھاری سرمایہ کاری کی ہے یہ ملک اب بھی چین کے 60 ارب ڈالر کا مقروض ہے۔ کولمبو نے ان قرضوں کی ادائیگی سے عاجز آکر کہا ہے کہ چین ان قرضوں کو وصولنے کے بجائے سری لنکا کے پروجیکٹ میں حصہ داری خرید لے جس کے نتیجے میں سری لنکا کے کئی اہم پروجیکٹ میں چین کا عمل دخل بڑھ جائے گا۔

چین نے ایک اندازہ لگایا ہے کہ سلک روٹ پر تقریبا 4 ٹریلین ڈالر خرچ آئے گا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق چین، سلک روٹ کا بنیادی ڈھانچہ بنانے کے لئے 2030 تک سالانہ 6۔1 ٹریلین ڈالر خرچ کرے گا۔

ابھی تک بھارت نے سلک روٹ میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے۔ نئی دہلی سلک روٹ کے مقبوضہ کشمیر سے گزرنے کے سبب اس منصوبے سے الگ ہے، نئی دہلی کا ماننا ہے کہ یہ کشمیر کو آزاد تسلیم کئے جانے کی سازش کا ایک حصہ ہے۔

بھارت نے اس روٹ کے کشمیر سے گزرنے کی مخالفت کرتے ہوئے رواں ماہ کی 14-15 تاریخ کو بیجینگ میں ہونے والی میٹنگ کا بائیکاٹ کیا تھا۔

بھارتی عہدیداروں کے مطابق سلک روٹ صرف اقتصادی مہم کا حصہ نہیں ہے بلکہ یہ خطے میں حاکمیت اور اثر و رسوخ بڑھانے کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔

سلک روٹ اور 21 ویں صدی کا سمندری سلک روٹ کا منصوبہ 2013 میں پہلی بار چینی صدر کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔ اس روٹ میں ریلوے لائن، گیس پائپ لائن، اور دیگر بنیادی پروجیکٹ شامل ہیں جو چین کے مرکزی شہر سے شروع ہوکر مرکزی ایشیاء کے تمام حصوں سے گزر کر روس کے ماسکو اور روٹرڈیم اور وینس تک جائے گا۔

    تازہ ترین خبریں