تحریر: سید عدنان قمر جعفری

اگر تمہاری نگاہ میں قصوروار ہوں تو میں ہوں، مگر یہ بچہ تو بےگناہ ہے ۔۔۔

خبر کا کوڈ: 1441992 خدمت: مقالات
یمن

میدان کربلا میں بلند ہونے والی امام حسین علیہ السلام کی دلگیر صدا پوری دنیا میں آج بھی گونج رہی ہے کہ "یہ بچہ تو بےگناہ ہے۔"

تسنیم نیوز ایجنسی: دنیا میں جب بھی جنگ ہوتی ہے تو کم از کم کسی ایک فریق کا قصور ضرور ہوا کرتا ہے۔

تاہم کسی بھی جنگ میں کسی بھی فریق سے تعلق رکھنے والے بچے ہمیشہ بےگناہ ہوتے ہیں۔

ان کا تعلق کسی جنگ، کسی لڑائی سے نہیں ہوتا۔

لیکن انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ آج دنیا میں جس جنگ زدہ علاقے کی جانب نگاہ کی جائے، وہاں بڑوں کے جانی اور مالی نقصان کے ساتھ ساتھ بچے بھی جنگ سے بری طرح متاثر نظر آ رہے ہیں۔

ایک تو پہلے ہی آدھی دنیا حالت جنگ میں ہے، علاوہ ازیں بچوں کو جنگ میں شامل کرنے کے رجحان میں اس قدر خوفناک اضافہ ہو چکا ہے کہ آج شاید ہی کوئی ملک اس عفریت سے محفوظ ہو۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق یمن میں ہر 10 منٹ بعد ایک بچہ جنگ کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔

اسی طرح اگر افغانستان کی جانب نگاہ کریں تو 2015 اور 2017 کے اوائل کے درمیان قریبا ساڑھے 3 ہزار معصوم پھول بارود کے شعلوں سے جھلس کر مرجھا گئے جبکہ 11418 بچے زخمی ہوئے ہیں۔

اگر شام کا تذکرہ کریں تو اس وقت 58 لاکھ شامی بچے  مدد کے منتظر ہیں، 28 لاکھ بچے ایسی جگہوں پر پھنسے ہیں جہاں آسانی سے رسائی حاصل نہیں ہے۔ 2 لاکھ 81 ہزار بچے محاصروں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

یونیسف نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ شام میں اسپتال، کھیل کے میدان، پارک اور گھر بھی بچوں کے لیے محفوظ نہیں ہیں کیونکہ یہ اکثر حملوں کی زد میں آتے رہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق صرف 2016 میں 652 بچے جنگ کی نذر ہو گئے جن میں سے 255 بچے اسکولوں کے اندر یا قریب تھے۔
 
اگر کلی طور پر دیکھا جائے تو یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک دہائی میں 20 لاکھ معصوم بچے بےجرم و خطا مارے جا چکے ہیں۔ 40 سے 50 لاکھ بچے معذور ہو گئے، ایک کروڑ 20 لاکھ معصوم بےگھر ہوئے، 10 لاکھ سے زائد یتیم یا اپنے والدین سے بچھڑ گئے جبکہ ایک کروڑ معصوم اذہان جنگ اور اس کی تباہ کاریوں کے باعث بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

تکلیف دہ امر یہ ہے کہ جب بڑے بڑے اجلاسوں میں یہ اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں تو عالمی رہنماوں کی جانب سے گہرے غم و رنج کا اظہار کیا جاتا ہے، متاثرہ بچوں کی امداد کے لئے ایک خصوصی فنڈ کو مخصوص کرنے کی تجاویز پیش اور منظور کی جاتی ہیں تاہم ساتھ ہی فضائی اور زمینی ذرائع سے بمباری میں شدت کے احکامات جاری کئے جاتے ہیں۔

پھر خواہ وہ رہائشی علاقے ہوں یا ہسپتال، بچوں کے پارک ہوں یا اسکول، بلا تمیز اور بلا امتیاز بارود بچوں سمیت شہریوں پر موت برساتا رہتا ہے، معصوم بچوں کی اموات میں اضافے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار اپ ڈیٹ کر کے پیش کیئے جاتے ہیں اور عالمی رہنما ایک بار پھر سے انتہائی گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔

بفرض محال اگر پل بھر کو مان بھی لیا جائے کہ یمن غلطی پر ہے، پورا شام مجرم ہے، ہر افغانی کی زیادتی ہے، تمام فلسطینی خطاکار ہیں تب بھی ۔۔۔۔ تب بھی ان معصوم بچوں کی کیا خطا ہے جنہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ انہیں کس گناہ کی سزا میں اتنی بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے؟

موضوع بحث وہی نقطہ ہے کہ بچوں کا کیا قصور ہے، بچے تو جس بھی قوم، رنگ، نسل یا مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، بےگناہ ہیں۔

اور میدان کربلا میں بلند ہونے والی امام حسین علیہ السلام کی دلگیر صدا آج بھی پوری دنیا میں گونج رہی ہے کہ یہ بچہ تو بےگناہ ہے۔

    تازہ ترین خبریں