مسلمانوں پر حملہ ہمیں تقسیم کرنے کی ناکام کوشش ہے، برطانوی وزیراعظم

خبر کا کوڈ: 1442179 خدمت: دنیا
تھریسامے

برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے لندن میں مسلمانوں پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کا ڈٹ کا مقابلہ کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق برطانوی وزیر اعظم تھریسامے لندن میں ایک انگریز دہشتگرد کے مسلمانوں کو وین سے روندنے کے افوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانوی مسلمانوں پر یہ دہشتگردانہ حملہ ہمیں تقسیم کرنے کی ایک ایسی سازش ہے جو کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔  

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں گزشتہ چند برسوں سے شدت پسندی کو ہوا دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور یہ حملہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔

شدت پسند حملے کے بعد طلب کئے گئے ہنگامی اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نماز کی ادائیگی کے بعد باہر نکلنے والوں پر حملہ کرنے والا ایک ہی شخص تھا جسے پولیس نے حملے کے 8 منٹ کے اندر ہی اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دے دیا تھا۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کی شدت پسندی سے نمٹنے کے لئے ہمیں بھرپور عزم کے ساتھ کام کرنا ہوگا چاہے اس کے ذمہ داروں کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔

تھریسا مے نے کہا کہ یہ حملہ بھی اتنا ہی تکلیف دہ ہے جتنا کہ ماضی میں ہونے والے حملے تھے، حملے میں بے گناہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا جو مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔
 

ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں مسلمانوں کو ان کی عبادت گاہ کے قریب نشانہ بنایا گیا اور دہشت گردی کے ہر واقعے کی طرح اس حملے کا مقصد بھی ہمیں تقسیم کرنا تھا۔

یاد رہے کہ 2 روز قبل شمالی لندن میں ایک وین نے مسجد سے نکلنے والے لوگوں کو کچل دیا جس سے دو افراد جاں بحق اور 10 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

    تازہ ترین خبریں